خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 209

1941 ء 210 14 خطبات محمود دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ آنے والی ہولناک تباہی سے دنیا کو بچالے )فرمودہ 18 ، اپریل 1941ء( تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ “ سب سے پہلے میں دوستوں کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ زمانہ نہایت ہی نازک ہے اور ہزاروں آدمیوں کی جانیں روزانہ ضائع جا رہی ہیں۔ عقلمند وہ ہوتا ہے جو دوسروں کی حالتوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرے۔ وہ شخص عقلمند نہیں ہوتا جو اس دن کا انتظار کرے جب مصیبت خود اس کو گھیر لے۔ کئی لوگ دوسروں کی مصیبتوں پر ہنسی اڑاتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا عذاب خود انہیں پکڑ لیتا ہے تب وہ رونے اور پیٹنے لگتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرنے لگ جاتے ہیں ۔ مگر ان کی اس وقت کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے کہتے ہیں کہ جب دوسرے مر رہے تھے اس وقت تو تم خوش تھے اور جب اپنے اوپر موت آنے لگی ہے تو رونے لگ گئے ہو۔ کیا وہ لوگ خدا تعالیٰ ہے کے بندے نہیں تھے؟ پس ہرگز اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی جو دوسروں کی موت پر خوش ہوتا یا اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام ایسے ہی لوگوں کے متعلق ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے ایک دفعہ کہیں ہیضہ پڑا لوگ مرے اور بے تحاشا مرتے چلے گئے جب کسی شخص کا جنازہ آتا اور لوگ