خطبات محمود (جلد 22) — Page 20
$1941 20 خطبات محمود آج ہماری حالت بھی درحقیقت وہی ہے جو بدر اور احد کی جنگوں میں صحابہ کی تھی۔ہمیں خدا تعالیٰ نے تلوار نہیں دی بلکہ روحانی ہتھیار دیئے ہیں اور انہی روحانی ہتھیاروں سے ہم قلوب پر فتح حاصل کر رہے ہیں۔پس چونکہ ہماری لڑائی تلوار والی لڑائی نہیں اس لئے ہماری بدر بھی یہی ہے اور ہماری احد بھی یہی۔جب کسی گاؤں میں مخالفت کے باوجود کچھ لوگ احمدی ہو جاتے ہیں تو وہی تبلیغی جنگ ہماری بدر کی جنگ کہلائے گی۔کیونکہ ہماری ساری جنگیں تبلیغی اور روحانی ہیں۔اس جنگ کے نتیجہ میں بھی کچھ لوگوں کو تو ایمان نصیب ہو جاتا ہے اور بہت سے ایمان لانے سے محروم رہتے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب یہی اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ ابھی تو کروڑوں عیسائی اور کروڑوں غیر احمدی موجود ہیں احمدیت کو کونسی فتح حاصل ہوئی؟ مگر یہ ایسی بات ہے جیسے بدر یا احد کی فتح کے وقت کوئی شخص کہتا کہ ابھی تو لاکھوں عرب مخالف ہیں اور یہ بدر اور احد کی فتح کو ہی اپنا بہت بڑا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔مگر جاننے والے جانتے ہیں، پہچاننے والے پہچانتے ہیں اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں جنگ بدر، بدر کی فتح نہیں بلکہ مکہ کی فتح تھی اور احد، احد کی فتح نہیں بلکہ مکہ کی تھی۔ویسے ہی جن کو خدا تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں وہ جانتے ہیں کہ پہاڑی دامن میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے دو چار لوگوں کو ہم احمدی بنا لیتے ہیں تو در حقیقت یہ اس گاؤں کی فتح نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں تمام دنیا کی ہے۔بے شک اس وقت وہ فتح بعض احمدیوں کے ایمان کی ترقی کا موجب بھی نہیں بنتی بلکہ بعض کہہ بھی دیتے ہیں کہ اگر فلاں جگہ دو چار احمدی ہو گئے ہیں تو کیا ہوا۔مگر جب ان چھوٹی چھوٹی فتوحات کا مجموعی نتیجہ پیدا ہو گا تو یک دم دنیا یوں گرنے لگے گی جیسے دریا کے کنارے کی زمین گرنے لگتی ہے اور اُس وقت کمزور ایمان والے گردنیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم پہلے ہی اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ احمدیت ایک دن ساری دنیا پر غالب آ جائے گی اور دوسرے لوگ بھی کہیں گے کہ آثار تو ہمیں بھی دیر سے نظر آ رہے تھے۔اُس وقت کے آنے تک ہوتی