خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 192

1941 193 خطبات محمود سن کر پیدا ہوتے ہیں مگر حضرت رسول کریم صلی لی کم بائیس سو سال پہلے کی دادی ہاجرہ کا ذکر کر کے اپنے صحابہ کو نصیحت فرماتے ہیں کہ دیکھنا! اہل مصر سے نرم سلوک کرنا۔تو اس قسم کا نمونہ دکھانا انبیاء کا ہی کام ہوتا ہے ورنہ عام دستور دنیا کے بادشاہوں کا یہی ہے کہ جب وہ کسی ملک میں فاتح بن کر داخل ہوتے ہیں بڑے بڑے ظلم کرتے اور ہزاروں لوگوں کو بے دریغ قتل کر دیتے ہیں۔پس ان واقعات کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ انگریزوں کی شکست ہمارے لئے فائدہ رکھتی ہے اور ہندوستان کو کوئی نقصان نہیں سکتی تو یہ بڑی بیوقوفی کی بات ہو گی۔سیاسی طور پر نئی حکومتیں اس بات پر مجبور ہوتی ہیں کہ وہ لوگوں سے سختی کریں اور اس وقت حالات میں ایسا تغیر اور قلوب میں ایسی بے اطمینانی ہوتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر وہ بڑی بڑی سخت سزا دے دیتی ہیں۔اور مذہبی لحاظ سے میں نے بتایا ہے کہ ہٹلر نے جو اعتقاد اپنی کتاب مائنے کامف میں بیان کیا ہے وہ ایسا خطرناک ہے کہ اس کی موجودگی میں اسلام اور احمدیت اور ہٹلر کی آپس میں کبھی صلح نہیں ہو سکتی۔وہ اپنے خیالات کو بدل لے تو اور بات ہے پھر ہمیں انگریزوں اور ہٹلر میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔بلکہ ہٹلر انگریزوں سے ہمیں زیادہ بہتر نظر آئے گا کیونکہ انگریز عیسائی ہیں اور ہٹلر اور اس کے ساتھی لامذہب اور ان کے جلد اسلام قبول کرنے کی امید کی جا سکتی ہے۔مگر موجودہ صورتِ حالات میں تو اس کا عقیدہ ایسا خطرناک ہے کہ اس کی موجودگی میں ہماری اس سے صلح ہو ہی نہیں سکتی۔پھر میرے لئے تو اس کا عملی ثبوت موجود ہے۔مجھے کثرت سے اللہ تعالیٰ نے رویا دکھائی ہیں جن سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس وقت تک موجودہ جنگ میں اللہ تعالیٰ انگریزوں کے حق میں ہے۔ممکن ہے وہ کل انگریزوں کی کسی حرکت پر ناراض ہو جائے مگر اس وقت تک مجھے جو رؤیا ہوئی ہیں ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انگریزوں کے ساتھ ہے۔مثلاً مجھے یہ دکھایا جانا کہ میرے سپر د انگلستان کی حفاظت کا کام کیا گیا ہے اور میں رویا میں ہی تو