خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 191

1941 192 خطبات محمود کھڑے رہو میں اکیلا شہر میں داخل ہوں گا۔چنانچہ وہ اکیلا شہر میں داخل ہوا او رباغی فوج کے افسر کے دفتر میں جا کر اس کے ڈسک پر سر جھکا کر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر پر نم آنکھوں کے ساتھ دعا میں مشغول رہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔نام یورپین تاریخ میں صرف ایک مثال ہے جہاں فاتح نے مفتوح کو ذلیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔لیکن محمد مصطفی صلیم کی زندگی تو اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے آپ نے جب مکہ فتح کیا تو باوجود اس کے کہ کفار مکہ سالہا سال تک آپ کو اور آپ کے صحابہ کو سخت سے سخت تکالیف پہنچاتے رہے تھے۔آپ نے ان سب کو کہہ دیا کہ لا تَقرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 6 جاؤ میں تم پر کوئی رفت نہیں کرتا۔پھر محمد صلی الی و کمی کا عفو و در گذر یہیں تک محدود نہیں بلکہ آپ نے محمد ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ پر مصر کو فتح کرے گا۔جب تم فاتحانہ حیثیت میں اُس میں داخل ہو تو اُس وقت تم اس بات کو یاد رکھنا کہ تمہاری دادی ہاجرہ مصر کی تھی۔اب کہاں حضرت ہاجرہ کا زمانہ اور کہاں صحابہ کا زمانہ۔مگر اتنی دوری کے باوجود رسول کریم صلی ا ہم نے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ تم اس تعلق کی بناء پر مصر کے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔تم خود ہی سوچو کہ کیا تمہیں کبھی اپنے پردادا کا خیال آیا؟ کبھی نکڑ دادا کے متعلق تمہارے دل میں محبت کا کوئی جذبہ پیدا ہوا؟ بھلا آدم کا ذکر سن کر کیا تمہارے دل میں ویسا ہی جذبہ محبت پیدا ہوتا ہے اپنے باپ یا دادا کا ذکر سن کر پیدا ہوتا ہے؟ یہ اور بات ہے کہ چونکہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے اور نبیوں کی طرح تم ان سے بھی محبت رکھو مگر جس طرح اپنے باپ یا دادا سے انسان کو محبت ہوتی ہے ویسی محبت تمہارے دل میں حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق پیدا نہیں ہوتی۔باوجود اس کے کہ انسانی نسل کے لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلام تمہارے دادا ہیں تمہیں کبھی ان کا ویسا خیال نہیں آیا جیسے اپنے باپ یا دادا کا خیال آجاتا ہے۔تمہارے دل میں ان کا نام سن کر صرف ایسے ہی جذبات پیدا ہوتے ہیں جیسے حضرت کرشن یا حضرت رام چندر کا نام