خطبات محمود (جلد 22) — Page 190
1941 ء 191 خطبات محمود لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں ۔ پھر بھی وہ یہی کہے کہ ہمیں حکومت میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دنیا میں دو قسم کی تبدیلیاں ہوا کرتی ہیں۔ ایک اندرونی تبدیلی ہوتی ہے اور ایک بیرونی تبدیلی۔ اندرونی تبدیلی کا مطالبہ تو ہمارا حق ہے اور ہم خود کہتے ہیں کہ انگریزوں نے بہت عرصہ حکومت کر لی ہے اب ہندوستانیوں کو بھی حکومت کے اختیارات ملنے چاہئیں لیکن یہ کہنا کہ انگریز چلے جائیں اور جرمن آ جائیں یہ قرآن کریم کی اس تہدید کو نظر انداز کرنا ہے کہ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً یہ خدائی قانون ہے جو جو کبھی نہیں بدل سکتا۔ سوائے سوائے اس کے کہ داخل ہونے والا دنیوی اصطلاح میں ملک نہ ہو جیسے کہ محمد صلی الم یا آپ کے خلفاء تھے۔ وہ روحانی بادشاہ تھے دنیوی اصطلاح میں ملک نہیں تھے۔ اسی طرح دو چار اور لوگ جنہیں بطور استثناء پیش کیا جا سکتا ہے۔ وہ گو بادشاہ کہلاتے ہوں مگر وہ ان معنوں میں بادشاہ نہیں تھے جن معنوں میں دنیا دار بادشاہ ہوتے ہیں بلکہ در حقیقت وہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے تھے۔ چنانچہ ساری یورپین تاریخ میں صرف ایک مثال ایسی نظر آتی ہے او روہ مثال بھی ایسی ہے جس میں فاتح نے غیر قوموں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو ظلم سے نہیں بچایا بلکہ اپنی قوم کے ہی ایک حصہ کے مقابلہ میں اس نے عفو اور درگزر کا سلوک کیا۔ یہ مثال ابراہیم لنکن کی ہے جو امریکہ کا پریذیڈنٹ تھا۔ اس کے عہد حکومت میں ایک دفعہ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کے ایک حصہ نے دوسرے حصہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ جب شمالی یونائیٹڈ سٹیٹس نے جنوبی یونائیٹڈ سٹیٹس پر فتح پالی اور وہ ایک فاتح کی حیثیت میں داخل ہونے لگا تو جرنیلوں نے فتح کا مظاہرہ کرنے کی بہت بڑی تیاری کی ہوئی تھی اور ان کی تجویز تھی کہ بینڈ بجاتے ہوئے ہم شہر میں داخل ہوں گے مگر جب ابراہیم لنکن نے ان انتظامات کو دیکھا تو اس نے اپنے جرنیلوں کو ڈانٹ دیا اور کہا کہ کیا یہ خوشی کا مقام ہے کہ امریکنوں نے امریکنوں کو قتل کیا ہے۔ لڑائی تو ہمیں مجبوراً کرنی پڑی تھی ورنہ اپنی قوم کا خون بہانا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہو سکتی۔ پھر اس نے اپنے جرنیلوں سے کہا کہ تم پیچھے