خطبات محمود (جلد 22) — Page 169
1941 170 خطبات محمود ساری عمر میں پانچ سات ہی آئے ہوں گے۔یا پھر جلسہ کے موقع پر کہ ہزاروں آدمی ملنے والے ہوتے ہیں اور اس پر عمل ناممکن ہوتا ہے۔تو یہ ایک آداب کا يق ہے اور اس سے توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔اس لئے ناظروں کو بھی میرا یہی ہے کہ کسی کے آنے پر وہ اٹھ کر اسے ملیں اور اس لئے اگر افسر کے آنے پر کلرک کھڑا نہیں ہوتا تو افسر کے اسے پوچھنے پر شکایت کی کوئی وجہ نہیں اس کے لئے تو کھڑا ہونا زیادہ ضروری ہے کیونکہ وہ ناظر اس کا بھائی بھی ہے اور افسر بھی۔اس لئے بلا کسی دغدغہ کے کھڑا ہونا چاہئے۔ہاں جماعتی طور پر یہ قرار دے دیں کہ کے لئے کھڑا نہیں ہونا چاہئے تو اور بات ہے لیکن جبکہ یہ ایک آداب کا طریق ہے جس پر عمل ہوتا ہے۔تو افسر کے آنے پر جو کلرک کھڑا نہیں ہوتا اگر وہ نادانستہ طور پر ایسا کرتا ہے تو بے سمجھ ہے اور اگر دانستہ کرتا ہے تو گستاخ ہے اور ناظر نے اگر اسے ٹوکا تو درست کیا اور اس کا اعتراض جائز تھا۔خصوصاً جبکہ میں نے ناظروں کو بھی یہ ہدایت کی ہوئی ہے کہ کھڑے ہوں تا یہ احساس پیدا ہو کہ ناظر اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے اور جبکہ میں ہر ایک کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اس کے باوجو د بھی اگر کوئی کلرک کام کے لئے اپنے افسر کے پاس کھڑا ہونے کو ہتک سمجھتا ہے تو وہ بے وقوف ہے۔ایک اور شکایت یہ ہے کہ ایک شخص نے اس ناظر کو سلام نہ کیا تو اس نے اسے کہا کہ تم نے سلام کیوں نہیں کیا۔اگر یہ بات درست تو یہ یقینا تکبر نہیں تو ناظر کی بے وقوفی ضرور ہے۔وہ لوگوں سے زبر دستی سلام ہے پچاس نہیں کرا سکتا میں خود سیر کے لئے جاتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ اگر آدمی رستہ میں ملتے ہیں تو ان میں سے 25 سلام کرتے ہیں اور 25 نہیں۔اگر آدمی ہر ایک سے پوچھتا پھرے کہ تم نے سلام کیوں نہیں کیا تو وہ تو باؤلہ کتا ہو جائے۔رسول کریم صلی الی امر کا حکم یہی ہے کہ تم کسی کو پہچانو یا نہ پہچانو اسے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہو۔1 مگر اس میں کیا شک ہے کہ اس حکم کا نہ اس قدر وسیع مفہوم ہے اور نہ مسلمان ایسا وسیع عمل اس پر کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس حکم کی قدر نہیں کرتے