خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 168

1941 169 خطبات محمود کہنا کہ نہ ہو یہ شرک بن جائے۔بعض شرک بے شک ایسے ہیں کہ نیت کے بغیر بھی شرک ہی رہتے ہیں مثلاً کسی انسان کو سجدہ کرنا یا گیارھویں دینا وغیرہ۔مگر تعظیم کے لئے کھڑا ہونا ایسی بات نہیں کہ نیت کے بغیر بھی شرک ہو جائے۔شرک اس وقت ہوتا ہے جب ارادہ مشرکانہ ہو محض محبت سے مجبور ہو کر شرک کے ارادہ اور نیت کے بغیر آپ ہی آپ کسی فعل کے سرزد ہونے کا نام شرک نہیں رکھا جا سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ قاضی صاحب سے آنحضرت صلی الم کی وفات پر حضرت عائشہ کا ہاتھ بے اختیار ممنہ پر پڑا جیسے پیٹا جاتا ہے مگر معا آپ کو یاد آگیا کہ آنحضرت صلی علی کریم نے اس سے منع فرمایا ہے اور آپ فوراً رُک گئیں اور ان کے اس ہاتھ مارنے کو گناہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک غیر ارادی فعل تھا جسے آپ نے خیال آتے ہی معاً چھوڑ دیا۔پس اگر کوئی شخص یہ خیال کئے بغیر کہ اس انسان کے اندر خدا کی صفات جلوہ گر ہیں ملکی دستور کے مطابق تعظیم کے لئے بے اختیار کھڑا ہوتا ہے تو یہ شرک نہیں بلکہ آداب اور نیکی کا طریق ہے۔میں نے یہ جواب قاضی صاحب کو پہنچا دیا اور وہ خاموش ہو گئے گو ان کے دل میں یہ بات کھٹکتی رہی۔میرا اپنا طریق یہ ہے کہ مجھے کوئی بھی ملنے آئے میں کھڑا ہوتا ہوں۔بعض اوقات نو مسلم دوست جو پہلے چوہڑے تھے ملنے آئے ہیں اور میں ان کے لئے بھی کھڑا ہوا ہوں۔کوئی چپڑاسی بھی آئے اس کے لئے بھی کھڑا ہوتا ہوں۔وہی میرے دفتر کا کلرک جو روز کاغذات پیش کرتا ہے اور ضرور تا عرصہ تک کھڑا رہتا ہے جب کسی ذاتی کام کے لئے ملنے آئے تو میں کھڑا ہو جاتا ہوں کاغذات دکھانے کے وقت تو وہ کھڑا رہتا ہے کیونکہ سامنے بیٹھ جائے تو کاغذات دکھا نہیں سکتا اس لئے پہلو میں کھڑا ہو کر دکھاتا ہے مگر وہی جب کسی ذاتی بات کے لئے آئے تو میں ضرور کھڑا ہوتا ہوں۔ہزاروں لوگ مجھ سے ملتے ہیں۔کوئی بتائے کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ مجھ سے کوئی ملنے آیا اور میں کھڑا نہ ہوا ہوں۔سوائے اس کے کہ میں حد سے زیادہ بیمار ہوں اور کھڑا نہ ہو سکوں اور ایسے مواقع بھی