خطبات محمود (جلد 22) — Page 15
$1941 15 خطبات محمود باز پرس کی جاتی تھی۔مثلا کسی نے قتل کر دیا تو اس سے جواب طلبی کی گئی یا کسی نے ڈاکہ ڈالا تو پنچائت نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کر دیا۔اس سے زیادہ نہ ان میں کوئی حکومت تھی اور نہ ہی کوئی نظام مگر عرب کی فتح نے جو ایمان پیدا کیا وہ شام کی فتح پیدا نہ کر سکی جو روم جیسی زبر دست حکومت کے مقابلہ میں حاصل ہوئی تھی۔کی فتح ایسی ہی تھی جیسے اس زمانہ میں افغانستان کے لوگ روس کا کوئی علاقہ کر لیں یا افغانستان کے لوگ انگلستان یا جرمنی کا کوئی علاقہ لے لیں۔اگر ایسا واقعہ ہو تو تم خود ہی سوچ لو دنیا میں کتنا شور مچ جائے۔فرض کرو افغانستان کے لوگ روس کو سائبیریا کے باہر نکال دیں تو کس طرح ایک غلغلہ برپا ہو جائے اور لوگ کہنے لگ جائیں کہ حد ہو گئی افغانستان والوں نے تو کمال کر دیا۔یہی حال اہل عرب کا قیصر کے مقابلہ میں تھا۔اور شام کی فتح ایسی ہی تھی جیسے افغانستان روس، انگلستان یا جرمنی کے کسی علاقہ کو فتح کر لے مگر باوجود اس کے مکہ کی فتح نے جو ایمان پیدا کیا وہ شام کی فتح پیدا نہ کر سکی۔مکہ کی فتح نے لاکھوں انسانوں کے دلوں میں ایسا ایمان پیدا کر دیا تھا کہ ان کی گردنوں پر تلواریں رکھی گئیں مگر ان کے ایمان میں تزلزل پیدا نہ ہوا۔ان لوگوں کے دلوں سے دنیا کا رعب بالکل مٹ گیا تھا اور دنیا کی محبت ان پر ایسی سرد ہو گئی تھی کہ سوائے خدا کے انہیں کوئی چیز ڈرانے والی نہیں رہی تھی۔کیا ہی عجیب نظارہ نظر آتا ہے کہ وہ لوگ جو کچھ سال پہلے اسلام کے خلاف تلواریں اٹھائے ہوئے تھے، جو اخلاقی اور علمی لحاظ سے بہت ہی گرے ہوئے تھے ان کے وفود آتے ہیں اور خلفائے اسلام ان سے کہتے ہیں کہ شام میں دشمن کی طرف سے بڑے زور کا حملہ ہو گیا ہے اور ہماری فوج کے آدمی کم ہیں تم جاؤ اور دشمن کے لشکر کا مقابلہ کرو۔ان کو معلوم ہے کہ دشمن کی تعداد دو یا چار لاکھ ہے، ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی منظم فوجیں رات اور دن لڑنے کی مشقیں کرتی رہتی ہیں، ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ ان کے افسر سالہا سال سے حکومتیں کرتے چلے آتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ فوجیں اپنے افسروں کے اشاروں کو سمجھتی ا