خطبات محمود (جلد 22) — Page 137
1941 ء 138 خطبات محمود سنتا کہ شاید رسول کریم صلی علیم نے جواب آہستہ دیا ہو۔ مگر جب معلوم کرتا کہ آپ نے جواب نہیں دیا تو تھوڑی دیر بیٹھ کر مجلس سے باہر چلا جاتا اور باہر یونہی تھوڑی دیر ادھر ادھر پھرنے کے بعد مجلس میں آتا اور پھر السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور رسول کریم صلی اللی ام کے ہونٹوں کی طرف دیکھتا کہ شاید آپ نے آہستہ سے جواب دیا ہو مگر آپ جواب نہیں دیتے تھے ہاں یہ میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ میں نظریں نیچی کئے بیٹھا ہوں۔ آنکھ اٹھا کر جو دیکھا تو رسول کریم صلی علیم کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا اور یہ دن اسی طرح گزرتے گئے۔ یہاں تک کہ غسان کے خط کا واقعہ ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر آنحضرت صلی الیم کو الہام فرمایا کہ تینوں کو معاف کر دیا جائے۔ مالک کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ کر جلد گھر آگیا تھا اور بعد میں مجلس میں آپ نے یہ فرمایا یہ سنتے ہی ایک صحابی تو گھوڑے پر سوار ہو کر مالک کو خبر دینے گئے مگر ایک ان سے بھی ہشیار نکلے اور انہوں نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا کہ مبارک ہو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول نے تم کو معاف کر دیا۔ مالک کہتے ہیں یہ پیغام پہنچا تو میں رسول کریم صلی اسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ نے ہمیں معاف کر دیا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا کہ اس معافی کے بعد میں سب سے پہلا کام یہ کرتا ہوں کہ میری دولت نے ہی مجھے غافل کر رکھا تھا۔ اس لئے میں ساری دولت اور جائداد خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہوں تا نہ یہ یہ پاس ہو اور نہ پھر کبھی ایسی غفلت میں مبتلا ہو سکوں 4 اور اس کے بعد یہ خوشخبری پہنچانے والے کو اپنے کپڑے انعام دیئے اور خود کسی سے مانگ کر پہنے۔ س تو دیکھو کس قدر مصیبت کے وقت میں شاندار اخلاص کا نمونہ دکھایا۔ آنحضرت رت صلی العلیم بیعت کے وقت یہ عہد لیتے تھے کہ عُسر یسر دونوں حالتوں میں فرمانبرداری کروں گا اور ان لوگوں نے اس عہد کو پورا کر دکھایا۔ پس نیک وہی ہے جو خوشی اور مصیبت دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی حالت میں بھی گھبراہٹ ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے