خطبات محمود (جلد 22) — Page 132
1941 133 خطبات محمود کہ خوشی میں خدا تعالیٰ کو یاد کرنے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں زمانے دیئے اس لئے کوئی یہ اعتراض نہیں کر سکتا اور ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہر ایک کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا تقویٰ اور دینداری کے ماتحت کیا۔کیونکہ دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کو نہ چھوڑا۔مجھے اس امر کی ایک مثال یاد آئی ہے کہ کس طرح بعض لوگ نرمی سے ہر قسم کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر ذراسی سختی کو برداشت نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں یہاں ایک شخص جو عرب کہلاتے تھے آئے۔وہ رہنے والے تو برما کے تھے مگر عرب کہلاتے تھے۔ابوسعید ان کا نام تھا وہ یہاں رہے مگر بعد میں کچھ ابتلاء آیا اور چلے گئے۔پھر سیاسی آدمی بن گئے اور ہندوستان سے شاید ترکی چلے گئے تھے اور غالباو ہیں فوت ہو گئے۔بہر حال پھر کبھی ان کا ذکر نہیں سنا۔وہ بڑے اخلاص سے یہاں آئے تھے مگر بعد میں بعض باتوں کی وجہ سے ابتلاء آگیا اور چلے گئے۔جب آئے تو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گورداسپور میں ایک مقدمہ 3 شروع ہو گیا جو مولوی کرم دین بھیں والے کے مقدمہ کے نام سے مشہور ہے۔اس کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اکثر گورداسپور جانا پڑتا تھا اور آپ بعض اوقات دس دس پندرہ پندرہ دن بلکہ مہینہ مہینہ وہاں رہتے تھے۔وہ بھی ساتھ رہتے اور خواجہ کمال الدین صاحب اور دوسرے لوگ جو مقدمات کا کام کرتے تھے ان سے خوب خدمت لیتے تھے اور وہ بڑی خدمت کرتے تھے۔حتٰی کہ مجھے بعض لوگوں نے سنایا کہ وہ ان کے پاخانہ والے پاٹ بھی دھو دیتے تھے۔حالانکہ وہ کسی زمانہ میں اچھے تاجر اور آسودہ حال آدمی رہ چکے تھے لیکن ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں تشریف فرماتھے میں بھی وہیں تھا۔خواجہ صاحب آئے شاید اپنے لئے یا شاید ان کے ساتھ کوئی ایسا آدمی تھا جس سے وہ اچھا سلوک کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے آتے ہی کہا کہ عرب صاحب وہ چٹائی گھسیٹ کر ادھر لے آئیے مگر خواجہ صاحب کا لہجہ قدرے تحکمانہ تھا اور طریق خطاب میں کچھ حقارت کا رنگ بھی تھا۔اس لئے ان کے جواب میں عرب صاحب نے باوجودیکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام