خطبات محمود (جلد 22) — Page 125
1941ء 125 خطبات محمود الله س رسول کریم صلی علیم کو ہمیشہ غربت سے گزارہ کیا کرتے تھے مگر آپ عطر کا ضرور استعمال فرمایا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب میں حضرت خلیفہ اول سے بخاری پڑھا کرتا تھا تو حضرت خلیفہ اول اپنی سادہ طبیعت اور کام کے غلبہ کی وجہ سے جمعہ کے دن بعض دفعہ انہی کپڑوں میں جو آپ نے پہنے ہوئے ہوتے تھے اُٹھ کر جمعہ کے لئے آ جاتے تھے۔ میں اپنی بغل میں بخاری دبائے کمرہ سے نکل رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا محمود یہ کیا ہے؟ میں نے کہا۔ حضرت مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے چلا ہوں۔ دراصل آپ نے ہی مجھے فرمایا تھا کہ محمود قرآن پڑھ لو، بخاری پڑھ لو اور طب بھی پڑھ لو کیونکہ طب ہمارا خاندانی پیشہ ہے یہ تمہارے لئے کافی ہے۔ غرض جب میں نے کہا کہ میں مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں تو آپ نے فرمایا مولوی صاحب سے کہنا۔ یہ حدیث بخاری میں آتی ہے یا نہیں کہ رسول کریم صلی ال یوم جمعہ کے دن نئے کپڑے پہنتے اور خوشبو لگایا کرتے تھے۔ میں نے اِسی طرح جا کر کہہ دیا۔ حضرت خلیفہ اول نے یہ سنا تو ہنس پڑے اور فرمانے لگے ٹھیک ہے آتی تو ہے پر ہم لوگوں سے کچھ سستی ہی ہو جاتی ہے۔ غرض رسول کریم صلی الم نے جمعہ کے دن صفائی کا کا خاص طور پر حکم دیا ہے اور اس احتیاط کی وجہ یہی ہے کہ مجمع میں کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اگر صفائی نہ ہو تو ان کی صحتوں پر برا اثر پڑے اور وہ اور بھی زیادہ کمزور اور بیمار ہو جائیں۔ ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ جب حضرت خلیفہ اول نے بھی اس پر عمل نہیں کیا تو ہم اگر عمل نہ کریں تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ ان کی وجہ اور تھی۔ وہ بہت زیادہ دینی کام میں مشغول رہتے تھے اور جو شخص زیادہ کام کرنے والا ہو اس سے ایسے امور میں بعض دفعہ سُستی ہو ہی جاتی ہے۔ پھر انہوں نے بھی یہ نہیں کہا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں ٹھیک کر رہا ہوں۔ بلکہ انہوں نے یہی فرمایا کہ سستی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کسی کی اس جواب سے تسلی نہ ہو تو میں