خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 117

1941ء 117 خطبات محمود فوراً سائبان کو اتروا دینا چاہئے تھا اور کھڑکیوں کو ہوا کی آمد و رفت کے لئے کھول دینا چاہئے تھا مگر ہمارے ملک کے لوگوں کو چونکہ عادت نہیں خوشبو کے استعمال کی اور چونکہ انہیں عادت نہیں بو سے بچنے کی اس لئے بہتوں کو شاید اس بو کا پتہ بھی نہیں لگا ہو گا حالانکہ انسانی سانس اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ اگر دو آدمی اکٹھے لحاف میں منہ ڈال کر سوئیں تو دونوں بیمار ہو جاتے ہیں۔ بلکہ اکیلا آدمی اگر لحاف میں منہ ڈال کر سوئے تو اپنے سانس کی زہر زہر سے ہی وہ بیمار ہو جاتا جاتا ہے جن لوگوں کو دائمی نزلہ ہوتا ہے وہ بالعموم وہی لوگ ہوتے ہیں جو لحاف میں سر چھپا کر سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ جو لوگ لحاف سے سر نکال کر سوتے ہیں یا کم سے کم ناک کا حصہ ننگا رکھتے ہیں انہیں نزلہ کی دائمی شکایت بہت کم ہوتی ہے مگر تعجب ہے یہ ہزاروں آدمیوں کا مجمع اس طرح بیٹھا تھا گویا لحاف میں اس نے اپنا منہ چھپا رکھا تھا۔ اور سب کے سانسوں شدید بدبو پیدا ہو گئی تھی۔ اگر اس بارہ میں احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو کمزور آدمیوں کی صحت پر بہت برا اثر پڑ سکتا ہے۔ پھر مساجد میں بیماروں نے بھی آنا ہوتا ہے انہی لوگوں میں وہ بھی ہوتے ہیں جنہیں نزلہ کی شکایت ہوتی ہے اور شاید بعض ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں سل کی شکایت ہو۔ ایسی حالت میں سائبان کو ایک برقع کی طرح اوڑھ کر بیٹھ رہنے اور تنفس کی بدبو سے نہ بچنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلول کا سانس تندرستوں کے سینہ میں جائے اور انہیں بھی بیمار کر دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نقص اسی وجہ سے ہے سے ہے کہ لوگوں نے عام طور پر یہ سمجھ لیا ہے کہ کہ رسول کریم صلی علیم کی بعض باتیں معمولی ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ رسول کریم صلی علیم کی کوئی بات معمولی نہیں، سب کے اندر فوائد ہیں، سب کے اندر حکمتیں ہیں اور سب کے اندر اغراض اور مقاصد ہیں۔ ایک چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی رسول کریم صلی الم نے بے وجہ اور بغیر حکمت کے بیان نہیں فرمایا۔ سے الله ہمیں دوسرے مذاہب پر جو فوقیت اور افضلیت حاصل ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کتاب دی ہے وہ پر حکمت ہے اور جو رسول ہماری رہنمائی