خطبات محمود (جلد 22) — Page 101
1941ء 101 خطبات محمود ص سة جواب میں کئی لوگ تو خاموش ہی ہو جاتے ہیں اور کہ اور کئی یہ کہہ دیتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللی سیم کی صداقت کے دلائل ہم کیا بتائیں وہ تو ظاہر ہی ہیں۔ پھر جب ان کے اس جواب پر جرح کی جاتی ہے تو صاف کھل جاتا ہے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ رسول کریم صلی ایم کو کیوں سچا سمجھتے ہیں۔ میرے پاس آج تک اس قسم کے جتنے لوگ آئے ہیں ان میں سے نوے فیصدی کا میں نے یہی حال دیکھا ہے۔ سو میں سے دو چار ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے کوئی جواب دیا ہے مگر ان کا وہ جواب بھی بہت ہی ادھورا تھا۔ مثلاً یہی کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی علیم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں اس لئے ہم آپ کو سچا سمجھتے ہیں اور اس طرح وہ خود ہی قابو میں آجاتے ہیں کیونکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں۔ تو جو سچائی ہر وقت انسان کے سامنے رہتی ہے اسے وہ کریدنے کا عادی نہیں ہوتا اور نہ اس کے دلائل اسے معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ سچائی وغیرہ کے بارہ میں کسی کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے یہ عام باتیں ہیں جو تمام لوگ جانتے ہی ہیں بہت بڑی غفلت ہے۔ کیونکہ جو چیزیں زیادہ سامنے آتی ہیں وہی اس بات کا حق رکھتی ہیں کہ ان کے متعلق بار بار سمجھایا جائے اور بار بار ان کے دلائل بیان کئے جائیں ۔ کیونکہ لوگ بار بار سامنے آنے والی چیزوں کے متعلق سوال نہیں کیا کرتے۔ بلکہ وہ غیر معروف چیزوں کے متعلق زیادہ سوال کیا کرتے ہیں۔ قادیان میں قرآن کریم کا درس تو اکثر ہوتا ہی رہتا ہے تم غور کر کے دیکھ لو کہ وہ لوگ جو رسول کریم صلی السلام کے متعلق سوالات کرنے والے ہوں وہ بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس سے زیادہ سوال کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کا ذکر آ جائے تو اور زیادہ سوالات کرتے ہیں لیکن جب آدم کا قصہ آ جائے تو بے تحاشہ سوالات کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا دل میں بے اختیار گد گدیاں ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ آدم کا واقعہ بہت دور کا ہے اور محمد صلی علیم کے معجزات کا بار بار ذکر سن کر