خطبات محمود (جلد 22) — Page 73
$1941 73 خطبات محمود ان امور کو جانتے ہوئے اس اعتراض پر اصرار کرنا صرف یہ بتاتا ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا چاہتے ہیں۔جس وقت تک بات کھلی نہ تھی اس وقت تک تو یہ خیال ہو سکتا تھا کہ یہ اعتراض نادانستہ کیا گیا تھا اور وہ غلطی میں مبتلا تھے۔مگر پوری وضاحت اور تشریح کے باوجود اس پر اصرار کے یہ معنے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا چاہتے ہیں اور اس صورت میں میں ان کے اعتراض کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہیں دے سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس ظلمت سے نجات دے۔اس قسم کے معترضین کو خاموش کرانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔جب ایسے لوگ حد سے سے بڑھ جایا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ان کو خاموش کر دیا کرتا ہے۔مگر کیا ہی بدقسمت ہے وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا کر ان نعمتوں سے بھی محروم ہو جائے جو اسے پہلے حاصل تھیں۔پس میں میاں صاحب موصوف کو کچھ نہیں کہنا چاہتا ان کا معاملہ اب میں نے اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے جو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔اس اس وقت میں جماعت کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ دیکھو اہل پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ماننے والے کہلاتے ہیں۔اور بعض ان میں سے صحابی بھی کہلاتے ہیں۔شروع دن سے ہی ان کے سر کردوں کی یہ حالت رہی ہے کہ میرے خلاف غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جبکہ بھیرہ کا ایک مکان حکیم فضل دین صاحب نے انجمن کو وصیت میں دیا اور انجمن نے اسے بیچنا چاہا اس کی قیمت سات آٹھ ہزار روپیہ تک ملتی تھی۔وہ مکان حکیم صاحب مرحوم کا ذاتی نہ تھا بلکہ انہوں نے خود یا ان کے خاندان نے کسی اور سے خرید کیا تھا اور جن سے وہ مکان خریدا گیا تھا وہ بھی بھیرہ کے ہی معزز لوگ تھے۔کسی مصیبت میں مبتلا ہو کر ایسے وقت میں جب وہ کوئی رقم ادا نہیں کر سکے، وہ یا نیلام ہو گیا تھا، یا رقم ادا کرنے کے لئے انہوں نے خود فروخت کر دیا تھا اور پانچ ہزار روپیہ میں نیلام یا بیع ہوا تھا۔جب انہوں نے سنا کہ انجمن اس مکان کو نیلام کرنے لگی ہے تو انہوں نے