خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 697 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 697

خطبات محمود 697 * 1941 کہ خدا تعالیٰ کے وقت کو اپنے لئے خرچ کر لیا اب میں باقی پانچ دن اس کے حضور معذرت کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔پس باہر کے دوست بھی اپنی نیتوں کو درست کر کے آئیں تا یہاں ان کو صحیح طور پر کام کرنے کی توفیق ملے اور یہاں کے دوست بھی نیتوں کو درست کر لیں کہ جن کاموں پر ان کو مقرر کیا جائے وہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب کا موجب ہو، نہ ان کے اندر تکبر اور فخر پیدا کرنے کا۔پھر میں باہر سے آنے والوں اور قادیان والوں کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ یہ ایام سردیوں کے ہیں اور بیماریوں کے بھی دن ہیں۔بعض جگہ ابھی تک ملیریا موجود ہے۔حالانکہ ان دنوں میں عام طور پر ختم ہو جایا کرتا ہے۔اس کے علاوہ انفلوئنزا بھی شروع ہو رہا ہے۔پھر جنگیں ہو رہی ہیں۔اس لئے جب گھروں نکلیں تو دعائیں کرتے ہوئے آئیں۔رسول کریم صلی اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ سفر کی دعا بہت قبول ہوتی ہے 5 اور پھر وہ سفر جو خدا تعالیٰ کے لئے کیا جائے اس کی دعا تو بہت زیادہ قبول ہو گی۔پس جو دوست جلسہ کے لئے آئیں وہ اپنے لئے بھی اور اُن کے لئے بھی جن کو ہ پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں اور جو اُن کی طرح یہاں نہیں آ سکے۔ان کے لئے بھی جو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کر رہے ہیں۔خواہ وہ کسی جگہ ہوں اور باقی سب دنیا کے لئے بھی جو خدا تعالیٰ نے بنائی ہے۔مگر ابھی اس میں ایمان پیدا نہیں ہوا۔دعائیں کرتے رہیں۔اسی طرح قادیان کے دوست ان کے لئے بھی دعائیں کریں جو باہر سے آئیں اور ان کے لئے بھی جو شامل نہیں ہو سکے اور جن کے دلوں میں شامل ہونے کی تحریک ہی نہیں ہو سکی۔پھر ان کے لئے بھی جن کو ایمان نصیب نہیں ہو سکا دعائیں کریں۔ساتھ ہی شوکتِ اسلام کے لئے بھی دعائیں کریں کیونکہ یہ ایام تو اسی غرض کے لئے مخصوص ہیں اور وہ دن جن کی غرض ہی شوکتِ اسلام ہے اسلام کا سے زیادہ حق ہے کہ ان میں اس کے لئے دعائیں کی جائیں۔اپنی ضرورتوں کے لئے بھی دعائیں کی جا سکتی ہیں مگر وہ اس قدر حاوی نہیں ہونی چاہئیں کہ دینی ضرورتیں نظر انداز ہو جائیں۔میں نے دیکھا ہے جلسہ کے موقع پر جب دعا ہوتی ہے تو آخر تک