خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 698 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 698

* 1941 698 خطبات محمود آوازیں آتی رہتی ہیں۔کوئی کہتا ہے میرے بیٹے کے لئے دعا کی جائے، کوئی کہتا ہے میری بیوی کے لئے اور کوئی اپنے باپ کے لئے دعا کرنے کو کہتا ہے۔حالانکہ بہ دعائیں تو ہو ہی جاتی ہیں۔ہر مومن اپنے نفس اور اپنے عزیزوں کے لئے بھی دعائیں کرتا ہے اور رسول کریم صلی الی یوم نے فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی دعا کرو اس میں اپنے لئے بھی ضرور کروں لیکن یہ ایام چونکہ شوکت اسلام کے لئے مخصوص ہیں اس لئے اسلام کے قیام کی دعائیں مقدم ہونی چاہئیں۔اپنے لئے بھی بے شک کرو مگر ان پر زیادہ زور نہ دو۔پھر یہ بھی دعائیں کرو کہ جسے تقریر کا موقع ملے خدا تعالیٰ اسے فخر و کبر سے بچائے۔میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ جب کسی کے سپرد کوئی کام کیا جائے اس کی اصلاح بھی فرض ہو جاتی ہے۔پس جن لوگوں کو جلسے پر تقریروں کا موقع دیا گیا ہے ان کے لئے دعائیں کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حق بات بیان کرنے کی توفیق دے۔ان کے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نہ نکلے جو دنیا کی تباہی یا گمراہی کا موجب ہو سکے۔اللہ تعالیٰ ان کو کبر اور فخر سے بچائے وہ لوگوں پر رُعب جمانے کے لئے تقریریں نہ کریں اور یہ نہ ہو کہ ان کی نیت میں خدا تعالیٰ کی رضا، اور تقویٰ نہ ہو بلکہ خود نمائی ہو۔اگر ایسا ہو تو ان کے لیکچر لیکچر نہیں بلکہ سڑے ہوئے نجس گند کا ڈھیر ہیں جس سے کسی کو اچھی چیز نہیں مل سکتی۔غرضیکہ دن بہت دعاؤں کے ہیں۔پس خود بھی دعائیں کرو اور دوسروں کو بھی دعاؤں کی تحریک کرو۔باہر کے دوست بھی اور قادیان کے بھی۔اول تو اپنی نیتوں کو درست کر لیں اور پھر دعائیں بھی کریں۔نیت کی درستی کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایسا انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے۔گویا وہ اپنے کو اللہ تعالیٰ کا خادم بنا دیتا ہے۔یہی تو کل کا پہلا مقام ہوتا ہے۔تو گل دراصل نیت سے ہی شروع ہوتا ہے جو نیت کو درست کر لیتا ہے وہ گویا تو گل کے پہلے مقام پر قدم رکھتا ہے اور جو تو گل کے مقام پر آجاتا ہے خدا تعالیٰ اس کے کام کا ذمہ دار ہو جاتا ہے۔اور جس کام کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہو اس کی درستی اور تکمیل میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔دنیا میں لوگ