خطبات محمود (جلد 22) — Page 692
* 1941 692 خطبات محمود انہیں کیوں روزہ کے لئے نہیں اٹھایا گیا۔انہیں روزہ رکھنے کا شوق ہوتا ہے مگر ان کی نیت کیا ہوتی ہے؟ صرف مقابلہ کرنے کے لئے وہ روزے رکھتے ہیں۔جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تم نے کتنے روزے رکھے تم نے کتنے۔غرض وہ محض مقابلہ کے لئے روزے رکھتے ہیں۔کوئی ادائیگی فرض کی نیت نہیں ہوتی۔وہ صرف اس فقرہ کے لئے روزے رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کو کہہ سکیں کہ تم نے کتنے روزے رکھے اور تم نے کتنے۔ان کی غرض صرف دکھاوا اور مقابلہ ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ایسے لوگوں کی مثال میں جو دکھاوے کے لئے کام کرتے ہیں ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی عورت تھی اس نے کوئی انگوٹھی بنوائی۔اسے شوق تھا کہ ہمجولیاں اس انگوٹھی کی تعریف کریں مگر کسی نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔آخر اس نے اسی جلن میں اپنے مکان کو آگ لگا دی اور ایسے رنگ میں لگائی کہ کوئی چیز صحیح سالم نہ بچ سکے۔لوگ جمع ہو گئے اور آگ بجھانے میں لگ گئے۔عورتیں بھی جمع ہو گئیں۔جو عورت آتی اس عورت سے پوچھتی ہے ہے بہن کچھ بچا بھی اور وہ کہتی کہ بس یہی انگوٹھی بچی ہے۔کسی عورت نے کہا۔بہن یہ انگوٹھی تم نے کب بنوائی ہے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ وہ چیخ مار کر کہنے لگی کہ اگر پہلے تم یہ پوچھ لیتیں تو میرا گھر کیوں جلتا۔تو کئی لوگ نیک اعمال بھی اس لئے کرتے ہیں کہ لوگ تعریف کریں۔نمازیں اس لئے پڑھتے ہیں کہ لوگ کہیں بڑا نمازی ہے۔لیکچر دیتے ہیں تو یہ غرض نہیں ہوتی کہ دین کی اشاعت ہو یا تقویٰ مد نظر نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ لوگ کہیں بڑا بولنے والا ہے، بڑا لیکچرار ہے۔خواہ کوئی کچھ سمجھے یا نہ سمجھے اس کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میرا ایک پرانا ملنے والا میرے پاس آیا اور درس میں شریک ہوا۔میری جو شامت آئی تو میں نے درس کے بعد اس سے پوچھا کہ سناؤ کچھ لطف بھی آیا۔اس نے کہا ہاں اچھا تھا۔آپ قرآن کریم کے معنے بیان کرتے تھے مگر ہمارے پیر صاحب جو