خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 683 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 683

* 1941 683 خطبات محمود انجمن احمدیہ کا ملازم نہیں مگر جب مولوی محمد علی صاحب قادیان میں رہتے تھے تو یہاں کے اسی فیصدی انجمن کے نوکر یا ان نوکروں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو یاد ہو گا کہ باوجود اس کے کہ وہی سیکرٹری تھے اور باوجود اس کے کہ خزانہ ان کے پاس تھا قادیان کے لوگوں نے مولوی صاحب کے ساتھ سلوک کیا تھا۔جب ایمان کا معاملہ آیا تو انہی قادیان والوں نے جس طرح دودھ سے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو نکال کر باہر کر دیا۔حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جن کے مال اور جن کی جانیں اسی طرح مولوی محمد علی صاحب کے قبضہ میں تھیں جس طرح اب وہ ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہمارے قبضہ میں لوگوں کے مال اور ان کی جانیں ہیں۔اگر اس وقت قادیان والوں نے ایمان کے معاملہ میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی تو اب وہ کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ قادیان کے رہنے والے ایمان کے معاملہ میں کمزوری دکھاتے اور منافقت سے کام لیتے ہیں۔ان کو تجربہ ہے کہ قادیان والوں نے اپنے ایمان کو فروخت نہیں کیا تھا بلکہ جب انہیں معلوم ہوا کہ اب دین اور ایمان کا سوال پیدا ہو گیا ہے تو انہوں نے مقابلہ کیا اور اس بات کی انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی کہ وہ صدر انجمن احمدیہ کے ملازم ہیں۔پھر میں مولوی محمد علی صاحب سے کہتا ہوں مولوی صاحب! آپ بھی قادیان کی نوکری کرتے رہے ہیں۔کیا اس وقت آپ کا ایمان بگڑا ہوا تھا یا سلامت تھا؟ آپ تو اس وقت اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے۔جن پر آپ اعتراض کر رہے ہیں ان میں سے اکثر تو ہیں تیس چالیس لینے والے ہیں مگر آپ اڑھائی سو روپیہ ماہوار وصول کیا کرتے تھے۔پس آپ بتائیں کے اعتقاد کا اس وقت کیا حال تھا۔پھر ہمارے اعتقادات کے بدلنے کا تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں مگر مولوی محمد علی صاحب کے متعلق ہمارے پاس اس بات کا اور یقینی ثبوت موجود ہے کہ جب تک وہ قادیان تک وہ قادیان سے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نبی کہتے کہتے ان کی زبان خشک