خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 682 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 682

* 1941 682 خطبات محمود نعوذ بالله اتنی گندی ہو گئی ہے کہ محض چند پیسوں کی خاطر اس نے اپنے دین اور ایمان کو بیچ دیا ہے۔گویا ساری قوموں میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی کی نوکری کریں تو اپنے عقائد کو بھی قائم رکھ سکیں مگر احمدیوں میں یہ طاقت نہیں ہے۔باقی لوگ تو غیر احمدیوں کی بھی نوکریاں کرتے ہیں، آریوں کی بھی نوکریاں کرتے ہیں، سکھوں کی بھی نوکریاں کرتے ہیں، انگریزوں کی بھی نوکریاں کرتے ہیں اور پھر اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں مگر مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک احمدی اتنی طاقت بھی نہیں رکھتے۔وہ کسی کی نوکری کرنے کے ساتھ ہی اپنے دین اور ایمان کو بھی فروخت کر دیتے ہیں۔خود پیغامیوں میں ایک خاص طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جو گورنمنٹ کی ملازمت میں ہے۔مگر ان کے نزدیک گورنمنٹ کی ملازمت ان کے اعتقادات پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔میاں غلام رسول صاحب تمیم، میاں محمد صادق صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر بشارت احمد صاحب یہ سب عیسائی حکومت کے ملازم تھے۔کیا یہ سب ان ایام میں عیسائی ہو گئے تھے یا عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگ گئے تھے ؟ کیا اس وقت جو لوگ انجمن اشاعت اسلام کے کر کے۔وہ ملازم ہیں وہ سب کے سب مولوی صاحب کے تجربہ کے مطابق منافق ہیں کیونکہ مولوی صاحب اور ان کی انجمن کے لڑ لگے ہوئے ہیں۔اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ لوگ منافق نہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ تو انگریزوں یا انجمن اشاعت اسلام کی ملازمت کر کے منافق نہ ہوئے مگر قادیان کے احمدی صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت اپنے ایمان کو سلامت نہیں رکھ سکتے۔اگر صدر انجمن احمدیہ کی نوکری کرنے سے عقیدہ بھی بدل جاتا ہے تو پیغامیوں میں سے جتنے لوگ گورنمنٹ کے ملازم ہیں کے متعلق یہ سمجھا جانا چاہئے کہ وہ عیسائی ہیں۔کیونکہ مولوی محمد علی صاحب کے اصل کے مطابق یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ گورنمنٹ کے ملازم ہو کر انہوں اپنے ایمان کو محفوظ رکھا ہو۔پھر میں کہتا ہوں مولوی محمد علی صاحب کو اپنا تجربہ بھی یاد ہونا چاہئے۔اب تو قادیان کی آبادی کا ایک کثیر ایسا ہے جو صدر