خطبات محمود (جلد 22) — Page 675
* 1941 675 خطبات محمود جب خدا تعالیٰ نے ہمیں دعا کا عظیم الشان ہتھیار دیا ہوا ہے تو کیوں نہ اس موقع پر بھی ہم اس کو استعمال کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مشاہدہ کریں۔کیا چھوٹی سی بات تھی جو گزشتہ خطبہ جمعہ میں میرے منہ سے نکلی اور خدا تعالیٰ نے اسے چند دنوں کے اندر اندر پورا کر دیا۔پچھلے جمعہ میں اسی منبر پر کھڑے ہو کر میں نے کہا تھا کہ ملک میں قحط کے آثار پائے جاتے ہیں جس کی ذمہ داری بہت حد تک گورنمنٹ پر ہے کیونکہ وہ دھمکیاں تو دیتی رہتی ہے کہ گندم مہنگی نہ کی جائے مگر عملاً کچھ نہیں کرتی۔پس ایک طرف میں نے گورنمنٹ کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی اور دوسری طرف جماعت کو یہ کہا تھا کہ دوستوں کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسا دے۔آج جبکہ میں جمعہ کا دوسرا خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوں دوست دیکھ رہے ہیں کہ یہ دونوں باتیں پوری ہو گئی ہیں۔گورنمنٹ نے بھی گندم کے نرخ پر کنٹرول کر لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بارش بھی بھیج دی ہے۔اب کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں سنتا اور اس طرح سنتا ہے کہ لطف آ جاتا ہے۔ایک لمبے عرصہ سے بارش رُکی ہوئی تھی مگر ادھر میں نے خطبہ پڑھا اور ادھر اس خطبہ کے چوتھے دن بارش ہو گئی۔اسی طرح میں نے ادھر خطبہ پڑھا اور اُدھر جمعہ کی شام کو گورنمنٹ کی طرف سے اعلان ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے دوسرے جمعہ کے آنے سے پہلے پہلے ہماری دونوں خواہشوں کو پورا فرما دیا۔ایک طرف گورنمنٹ سے اُس نے وہ بات منوالی جو ہم چاہتے تھے اور دوسری طرف بارش نازل فرما دی۔بہر حال ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنتا اور انہیں غیر معمولی طور پر قبول فرماتا ہے اور اس طرح ہمارے ایمانوں کی تازگی کے سامان بہم پہنچاتا رہتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے جس حد تک انبیاء کے درجہ سے نیچے اتر کر صلحاء و اولیاء کو کثرت سے غیب کی خبریں ملتی ہیں۔اس کثرت کے ساتھ وہ ہمیں بھی اپنے غیب کی خبروں سے اطلاع دیتا رہتا ہے۔دنیا میں بعض ایسے ایسے اولیاء بھی کہلاتے ہیں جنہیں تمام عمر میں صرف دو چار الہام ہوئے ہیں مگر ہمیں