خطبات محمود (جلد 22) — Page 658
خطبات محمود پر 658 * 1941 میں نے مولوی صاحب کو یہاں آکر دوسرے دنوں میں تقریریں کرنے کی دعوت دی تھی اور یہ صحیح ہے کہ ان کی طرف سے یہ مطالبہ ہوا تھا کہ جلسہ کے دنوں میں انہیں موقع دیا جائے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر لوگ ہزاروں میلوں سے آتے ہیں اور ہزاروں جماعتوں اور قوموں کے لوگ آتے ہیں اور ہماری جماعت کا جلسہ 25، 30 ہزار روپیہ خرچ ہو جاتا ہے اور جو لوگ آتے ہیں وہ بھی لاکھوں روپیہ خرچ کر کے آتے ہیں۔کلکتہ اور بنگال کے دوسرے شہروں یا بہار وغیرہ سے یہاں تک ایک آدمی کا ایک طرف کا کرایہ 20، 25 روپیہ لگتا ہے اور اگر یو۔پی کے پرے سے آنے والوں کی تعداد دو سو بھی سمجھ لی جائے اور وہ سب تھرڈ کلاس میں ہی سفر کریں تو دس پندرہ ہزار روپیہ تو صرف ان کا ہی خرچ ہو جاتا ہے۔حالانکہ آنے والوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔پھر اگر سندھ ، مدراس، بمبئی، کنانور وغیرہ علاقوں سے آنے والوں کا کرایہ اور سفر کے دوسرے اخرجات دیکھے جائیں تو یہ رقم بہت بڑی بن جاتی ہے اور دو سو میل سے زیادہ دور سے آنے والوں مثلاً صوبہ سرحد، راولپنڈی اور دہلی وغیرہ سے جو دوست آتے ہیں ان کا خرچ بھی 20، 25 روپیہ سے کم نہیں ہوتا اور ان کی تعداد ہزار پندرہ سو بھی سمجھ لی جائے تو ہمیں پچیس ہزار روپیہ تو ان کا خرچ ہی بن جاتا ہے۔قریب کے علاقوں سے آنے والے لوگ اس کے علاوہ ہیں۔اور اس طرح آنے والوں کا خرچ ایک لاکھ بلکہ اس سے بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اپنی جماعت کے دوستوں کا اتنا روپیہ جو میری اور میرے معاونین کی باتیں سننے کے لئے خرچ کرتے ہیں ضائع کرا دوں۔کیا مولوی صاحب بتا سکتے ہیں کہ ایسی مثال پہلے بھی کہیں ملتی ہے؟ میں نے جو دعوت دی تھی وہ ایسے موقع کے لئے تھی جب میرے لئے سہولت ہو۔مولوی صاحب کا مطالبہ جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر کا ہے لیکن جلسہ کے موقع پر ہماری جماعت کے لوگ لاکھوں روپیہ خرچ کر کے یہاں پر میری اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی باتیں سننے کے لئے آتے ہیں مولوی صاحب کی نہیں۔اگر انہیں ان کی باتوں کا شوق