خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 648 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 648

خطبات محمود۔648 * 1941 متکفل ہو جاتا ہے اور اسی کا نام ولایت ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے کام کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کے کرتا ہے اور جو انسان خدا تعالیٰ کا کام تو نہ کر سکے مگر اس کے مکمل ہو جانے کی دعا کرتا رہے تو اس کا مطلب بھی کام کرنے کا ہی ہے اور اس کے نتیجہ میں بھی خدا تعالیٰ اس انسان کے کام کرنے لگ جاتا ہے۔غرض جو بندہ خدا تعالیٰ کے کاموں کو اپنا لیتا ہے وہ گویا خدا تعالیٰ کا ولی بن جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اس کے کاموں کو اپنا لیتا اور اس کا ولی بن جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ولایت کے یہ معنی نہیں کہ جس طرح دو شخص باہم فیصلہ کرتے ہیں کہ آؤ ایک دوسرے کے دوست بن جائیں اور پھر دعوت کرتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ولایت اسی طرح ہوتی ہے کہ بعض بندے خدا تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کے کاموں کا کفیل ہو جاتا ہے اسی کا نام ولایت ہے۔پس دوستوں کو اس موقع پر بھی دعائیں کرنی چاہئیں اور ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نئی تحریک ہو تو خواہ کوئی کہے یا نہ کہے وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنے میں لگ جائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے زیادہ سے زیادہ کامیاب کرے۔پھر وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کے مصائب اور مشکلات کو دور کرتا ہے۔یہ نہیں کہ پھر ان پر کوئی مشکل یا مصیبت آئے گی نہیں۔مصائب اور مشکلات دنیا میں آتی تو ضرور ہیں، اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر بھی مشکلات آتی ہیں حتی کہ آنحضرت صلی علیم پر بھی مصائب اور مشکلات آئیں۔تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم پر نہ آئیں۔مگر یہ مصائب اور مشکلات کوئی چیز نہیں ہیں۔اصل مصیبت وہ ہوتی ہے جو انسان کو تباہ کر دے اور ایسی مشکلات تم پر کبھی نہ آئیں گی۔ایک دفعہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نوٹ ملا جو شاید میں تشخیز الاذہان میں شائع بھی کروا چکا ہوں۔اس میں آپ نے لکھا ہے کہ خواہ ساری دنیا میری مخالف ہو مجھے اس کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر اتنا فضل ہے کہ جب دنیا سو جاتی ہے وہ آسمان سے اتر کر مجھے تسلی دیتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں