خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 587

* 1941 587 خطبات محمود اس بات کے ذمہ دار ہیں۔جب انہوں نے علم دین پڑھنا شروع کیا تو گویا خدا تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ دین کے سپاہی بنیں گے اور کسی کو دین کا علم خدا تعالیٰ کی طرف سے دیا جانا گویا خدا تعالیٰ سے اس کا معاہدہ ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح میں لگا گا اور اس کو توڑ کر وہ اس کے عذاب کا مستحق ہو گا۔سارے محلہ کی اخلاقی رہے نگرانی اس کے ذمہ ہے۔خصوصاً نئے آنے والوں کی۔بیرونی جماعتوں کو بھی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔اب بیرونی جماعتوں میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگ بکثرت بڑھ رہے ہیں اور جب زیادہ لوگ دین میں شامل ہونے لگیں تو تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی السلام کو دین میں لوگوں کے بکثرت داخل ہونے کی خبر دی وہاں زیادہ استغفار کا بھی حکم دیا۔جیسا کہ فرمایا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ۔وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا۔۔۔فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا 4 یعنی اے محمد صلی ) وہ زمانہ اب قریب آگیا ہے کہ دین میں فوج در فوج لوگ داخل ہوں۔مگر اس کثرت کو دیکھ کر یہ غلطی نہ کرنا کہ خوش ہو جاؤ کہ اب تو کام ہو گیا۔بلکہ ها الله سة ان اس بات کا خیال رکھنا کہ یہی دن خطرہ کے ہیں۔پہلے مسلمان تھوڑے تھے مگر میں سے ہر ایک ہمارا سپاہی تھا۔اب بظاہر مسلمان زیادہ ہو گئے مگر ایک تعداد ایسے لوگوں کی ہو گی جو پوری طرح مسلمان نہیں ہوں گے۔باطنی طور پر ان میں کمزوری گی۔پس جب کثرت حاصل ہو تو اس پر خدا تعالیٰ کی حمد بھی کرو اور کہو کہ خدایا تیرے انعام کی میں ناقدری نہیں کرتا۔لوگوں نے اسلام کو قبول کیا اس پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔مگر ساتھ ہی استغفار بھی کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ خدایا اب ان کی اصلاح میرے بس سے بڑھ گئی ہے۔تو خود ہی اس کام کو کر۔فرمایا۔إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا الله تعالى رجوع بہ رحمت کرنے والا ہے۔وہ رحمت کے ساتھ تیری مدد کو پہنچے گا اور خود تیرے ساتھ ہو کر ان کی تربیت کرے گا اور جب خدا تعالیٰ بھی استاد ہو جائے تو یہ کام کس قدر آسان ہو سکتا ہے۔