خطبات محمود (جلد 22) — Page 588
خطبات محمود 588 * 1941 ہماری جماعت کے دوستوں کو ان باتوں کی طرف ہمیشہ توجہ رکھنی چاہئے۔یاد رکھو کہ منہ سے اپنے آپ کو احمدی اور صحابی کہنے سے کچھ نہیں بنتا۔بعض لوگ فخریہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن حالت یہ ہے کہ اگر ان کے ہمسایہ پر شیطان حملہ کر رہا ہو اور روحانی قتل ہو رہا ہو تو کبھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ کے بندوں پر شیطان حملہ کر رہا ہوتا ہے اور یہ مسیح کا حواری اور خدا کا سپاہی آرام سے گھر میں بیٹھا رہتا ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر جرمن فوج حملہ کرے تو برطانوی فوج خاموش بیٹھی رہے گی۔اسی طرح جب شیطان حملہ آور ہو رہا ہو تو خدا کا سپاہی کس طرح چپ چاپ بیٹھ سکتا ہے اور اگر وہ چپ بیٹھے رہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خدا کے سپاہی نہیں ہیں۔کوئی شخص خدا تعالیٰ کا سپاہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دیوانہ وار شیطان مقابلہ نہ کرے اور جب تک اس طرح مقابلہ نہ کیا جائے شیطان نہیں مارا جا سکتا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی بعثت کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔اور تم خدا تعالیٰ کے سپاہی نہیں ہو سکتے جب تک شیطان کے قاتل نہ بنو۔اس کے بغیر خواہ کوئی۔سر سے پیر تک احمدیت کے تمغے پہن کر آ جائے اسے کوئی فائدہ نہ ہو سکے گا۔اس کی مثال ایسی ہو گی جیسے کسی نے تمغے چرائے ہوئے ہوں۔گورنمنٹ کسی کو خان بہادر بناتی ہے تو اس کی عزت بھی ہوتی ہے لیکن اگر کوئی اس کے تمغے چرا کر پہن لے تو اس کی کوئی عزت نہیں ہو سکتی۔صرف منہ سے اپنے آپ کو صحابی اور احمدی اور مومن کہنے سے کچھ نہیں ہوتا اور منہ کے دعووں سے انعام نہیں مل سکتا۔ایسے شخص کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پچرا کے تمغے پہن لے۔جب تک کوئی شخص اپنے فعل سے قربانی نہیں کرتا۔اس کی مثال ایک بھگوڑے کی ہے۔وہ میدان میں ٹھہرنے والے اور انعام پانے والے سپاہی کی طرح ہر گز نہیں ہو سکتا۔" (الفضل 20 نومبر 1941ء)۔