خطبات محمود (جلد 22) — Page 584
* 1941 584 خطبات محمود انہیں سزا نہیں دے گا؟ دے گا اور ضرور دے گا اور وہ ان سے کہے گا کہ گو تم جھوٹا سمجھتے تھے مگر لیکھرام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے بعد تم نے کس طرح جھوٹا سمجھا؟ آتھم کی پیشگوئی کے بعد کس طرح سمجھا آپ کی پیشگوئیوں کے ماتحت زلزلے آنے کے بعد کس طرح جھوٹا سمجھا؟ اور اس طرح آپ کی صداقت کا ایک ایک نشان بیان کرنے کے بعد دریافت کرے گا کہ اس کے ہوتے ہوئے تم کس طرح آپ کو جھوٹا سمجھتے رہے؟ اسی طرح خدا تعالیٰ یہ بھی کہے گا کہ بے شک تم اپنے بیٹے یا بھائی یا باپ یا کسی اور رشتہ دار کو مجرم نہیں سمجھتے تھے مگر فلاں فلاں مومن گواہ تھے۔فلاں واقعات تھے جن سے صداقت معلوم ہو سکتی تھی۔تم نے کیوں معلوم نہ کی۔صداقت معلوم ہو سکنے کے ذرائع ہونے کے باوجود جو اِن سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ یقینا مجرم ہے۔سورج طلوع ہونے کے بعد بھی جو شخص خود اپنے دروازے اور کھڑکیاں بند کرلے اور کہے ابھی رات ہے کیا تم اسے مجرم نہ کہو گے۔پس یہ کوئی دلیل نہیں کہ چونکہ تمہارا نفس کہتا ہے کہ تمہارا بھائی یا بیٹا یا کوئی اور رشتہ دار سچا ہے اس لئے وہ ضرور سچا ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ ہم میں ایسے احمدی ہیں جو محض اس وجہ سے کہ کسی سے ان کی رشتہ داری ہوتی ہے۔جب اس پر کوئی الزام آتا ہے تو خواہ مخواہ اس کی تائید کرنے لگ جاتے ہیں اور اپنے نفس کو اس طرح تسلی دے لیتے ہیں کہ یہ مجرم نہیں۔مگر خدا تعالیٰ ان سے کہے گا کہ سچ اور جھوٹ میں امتیاز کے لئے میں نے تم کو جو آنکھیں دی تھیں اور جو ذرائع مہیا کئے تھے۔ان سے تم نے کیوں کام نہیں لیا۔میں نے ہمیشہ سچائی پر بڑا زور دیا ہے اور اگر ہماری جماعت سچائی پر ہی قائم ہو جائے تو شیطان کا لشکر پوری طرح شکست کھا سکتا بشر طیکہ یہ حالت پیدا ہو جائے کہ دنیا میں ہر شخص یہ کہے کہ احمدی ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔بے شک ہماری جماعت میں اکثر لوگ سچ بولتے ہیں بلکہ بعض ایسے احمدیوں نے جو قانون کی نگاہ میں مجرم تھے ان سے غلطی ہو گئی اور عدالت نے تسلیم کیا کہ انہوں نے سچ بولا۔گو اور گواہ نہ تھے مگر انہوں نے خود سچ کہہ دید مثلاً قاضی محمد علی صاحب کی صرف ہے۔