خطبات محمود (جلد 22) — Page 575
* 1941 575 (33) خطبات محمود جہاد اکبر کو کسی وقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے فرموده 14 نومبر 1941ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔“لڑائیاں اس وجہ سے کہ ان میں ہزاروں، لاکھوں انسان بعض دفعہ مارے جاتے ہیں ہزاروں، لاکھوں خاندان برباد ہو جاتے ہیں، ہزاروں، لاکھوں عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں اور ہزاروں، لاکھوں بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔نہایت ہی مکروہ، ناپسندیدہ اور خطرناک سمجھی جاتی ہیں لیکن جب لڑائی کی غرض لڑائی کو دور کرنا ہو اور جنگ دفاعی ہو تو وہی اچھی سمجھی جاتی ہے۔جیسے اسلام میں جہاد کا حکم ہے مگر باوجود اس کے کہ دفاع نہایت ضروری چیز ہے۔اس کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور دنیا ظلم کو روکا نہیں جا سکتا۔جب تک دنیا میں ایسے انسان موجود ہیں جو طاقت پر گھمنڈ کرتے ہیں جو اس امر کا فرق محسوس نہیں کرتے کہ دنیا میں اصل طاقت اخلاق کی جنگ ضروری ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایک مضبوط اور تندرست آدمی کسی کمزور آدمی سے لڑ پڑتا ہے یا کسی بچے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں ایک تھپڑ مار کر تمہارے سارے دانت نکال دوں گا۔مجھے اس فقرہ پر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ یہ کہنے والا شخص یہ نہیں سمجھتا کہ اس کا زور آور یا طاقتور ہونا اس کی اخلاقی فضیلت کی دلیل نہیں چونکہ وہ طاقتور ہے اس لئے لازمی طور پر اس کی ضرب زیادہ زور سے پڑے گی اور جو کمزور ہے اس کی ضرب کم زور سے پڑے گی۔طاقتور کی ضرب کا زور سے پڑنا اس کی کوئی فضلیت نہیں۔لوہا اگر پیتل پر