خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 569

* 1941 خطبات محمود 569 اس کا مقابلہ کریں گے یا اگر مناسب سمجھیں گے تو اسے معاف کر دیں گے۔اگر سلسلہ کا مفاد یہ چاہتا ہو کہ اسے معاف کر دیا جائے تو ہم معاف کر دیں گے اور اگر سلسلہ کا مفاد یہ چاہتا ہو کہ اسے معاف نہ کیا جائے تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے۔بہر حال ہم فرد کو ہی اپنے سامنے رکھیں گے۔قوم کو نہیں۔اور اگر ان افراد کے معاملہ میں ہماری بات نہ سنی جائے تو ہم بالا حکام کے سامنے اپنا معاملہ رکھیں گے اور اگر انہوں نے بھی نظر انداز کر دیا تو ہم ساری قوم کے سامنے اسے سمیں رکھیں گے اور اگر قوم نے بھی اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی تو پھر ہم کہہ گے کہ وہ قوم کی قوم ہمارے ساتھ انصاف کرنے کے لئے تیار نہیں اور اس وقت ہمارا حق ہو گا کہ ہم ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیں لیکن اس سے پہلے ہمارے لئے مدد سے انکار کرنا جائز نہیں۔اور گزشتہ واقعات میں ہمارا تجربہ یہی ہے کہ جب ہم نے بالا حکام کے پاس اپیل کی تو وہ رائیگاں نہیں گئی البتہ کچھ عرصہ سے انہوں نے الزام سے بچنے کا ایک نیا طریق نکالا ہے کہ انگریز وزراء پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں اور وزراء انگریزوں پر ڈال دیتے ہیں۔یہ شتر مرغ والا ایک نیا ڈھنگ انہوں نے نکالا ہے اور ہر شخص اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔اگر حالات یہی رہے تو کم سے کم ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ کانگرس اپنے اس مطالبہ میں بالکل حق بجانب ہے کہ ہندوستان کی حکومت کلیۂ ہندوستانیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔یہ دوغلی حکومت اچھی نہیں کہ انگریز حکام سے کوئی بات پوچھی جائے تو وہ اس کی ذمہ داری وزراء پر ڈال دیں اور وزراء سے دریافت کیا جائے تو وہ انگریز حکام پر اس کی ذمہ داری اگر ڈال دیں۔یہ شتر مرغ والی چال ملک کے لئے سخت نقصان رساں ہے اور واقعات اسی طرح ہوتے رہے تو کم سے کم ہم اس نتیجہ پر ضرور پہنچ جائیں گے کہ دوغلی حکومت نہیں ہونی چاہئے اور انگریزوں کا حکومت میں بالکل کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے۔گورنر صرف “صاحب سلامت ” کہنے کے لئے ہو جیسے کینیڈا یا آسٹریلیا میں اس کی مثال ملتی ہے۔