خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 534

* 1941 534 خطبات محمود شہروں میں سینکڑوں آدمی روزانہ مرتے ہیں۔چنانچہ کسی سڑک پر چلے جاؤ تمہیں جنازے گزرتے دکھائی دیں گے۔چھوٹے قصبات میں بھی پانچویں دسویں کوئی نہ کوئی موت ہوتی رہتی ہے۔چھوٹے چھوٹے گاؤں میں بھی سال میں دو تین موتیں ہو جاتی ہیں۔پس موت کا یہ نظارہ بھی ہمیں کثرت سے دنیا میں نظر آتا ہے۔غرض خدا کی یہ دونوں صفات کہ وہ مُخی بھی ہے اور مُمِيت بھی ہے۔اس رنگ میں لوگوں کے سامنے آتی رہتی ہیں کہ کوئی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔حیات انسان کے لئے خوشی کا موجب ہوتی ہے اور موت لوگوں کے لئے رنج موجب ہوتی ہے۔دشمن کی بھی لاش پڑی ہوئی ہو تو سوائے ایک شقی القلہ انسان کے دوسرے انسانوں کے دلوں میں رحم کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔بہیں نہیں تھیں تیں سال کی دشمنیاں اس وقت دلوں سے نکل جاتی ہیں اور دشمن کی لاش دیکھ کر انسان کے دل میں سے اس وقت دعا ہی نکلتی ہے یا اس کے رشتہ داروں اور ہر عزیزوں کے لئے دل میں رحم اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ انسان جانتا ہے کہ جو دن اس پر آیا ہے وہ مجھ پر بھی آنے والا ہے۔جس طرح یہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں سے جدا ہوا ہے۔اسی طرح میں ایک دن اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں اور دوستوں سے جدا ہو جاؤں گا۔جس طرح اس کے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کو اس کی موت سے تکلیف پہنچی ہے اسی طرح میرے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کو میری موت سے تکلیف پہنچے گی اور جس وجہ طرح وہ بہت سے کام جو اس کے ساتھ وابستہ تھے اب ان کے پورا نہ ہو سکنے کی و سے اس کے پسماندگان کو تکلیف پہنچی ہے۔اسی طرح جو کام مجھ سے وابستہ ہیں وہ بھی میری وفات کے بعد پورے نہ ہو سکنے کی وجہ سے میرے پسماندگان کو تکلیف ہو گی۔غرض ان جذبات اور خیالات کے ماتحت دشمنوں کی دشمنیاں بھی اس وقت بھول جاتی ہیں۔خواہ اس وقت کے گزر جانے کے بعد دشمنی اور بھی بڑھ جائے مگر اس وقت طبیعت میں ضرور نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی دو صفات ہیں