خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 515

خطبات محمود 515 * 1941 کیا نکلا؟ ہم اور ہوائی جہاز اور اس طرح موت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔خدائی مذہب نے انسان کی نجات کا جو راستہ تجویز کیا تھا اسے نظر انداز کر کے لوگوں نے بالشو ازم اور ناٹسی ازم نکالے مگر ان سے غلامی اور بھی بڑھ گئی۔یہی شُوَاظٌ مِن نَّارٍ ہے۔فرمایا بھی تم کہو گے کہ سائنس کی ترقی سے ہم خدا تعالیٰ کو بے دخل کر دیں یا خدا تعالیٰ کے قانون کی جگہ خود کوئی قانون بنا لیں تو تم پر اور زیادہ مصائب آئیں گے ہم گریں گے اور آزادی حاصل کرنے کی بجائے اور بھی غلامی میں پڑ جاؤ گے۔اگر واقعی مذہب میں خرابی پیدا ہو جائے تو بھی تم اس سے آزاد نہیں ہو سکتے جب تک کہ خدا تعالیٰ کا نبی آکر تمہیں اس سے نہ نکالے۔اگر بگاڑ تم نے خود پیدا کیا ہے تو دور اسے خود نہیں کر سکتے بلکہ خدا تعالیٰ کا مامور آکر ہی اسے دور کر سکتا ہے۔اسی طرح سائنس جب مذہب سے جدا ہو کر چاہے گی کہ خدا کو پنشن دے دے تو اس کی تحقیقات کے نتیجہ میں بم اور طیارے ایجاد ہوں گے۔آرام اور سکھ کے سامان نہیں۔آرام اور سکھ کے سامان اسی صورت میں ایجاد ہوں گے جب خدا تعالیٰ پر یقین ہو اور اس کے قانون کو اپنے لئے راحت کا موجب سمجھتے ہوئے تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں مخفی طاقتیں بھی رکھی ہیں۔آؤ ان کی تحقیقات کریں۔ان حالات میں جو ایجادیں ہوں گی وہ آرام و راحت اور آسائش کا موجب ہوں گی لیکن جب خدا تعالیٰ پر ایمان نہ ہو گا اور اس کے قانون سے بچنے کی کوشش کی جائے گی تو اس صورت میں ذہن ہمیشہ تکلیف دہ چیزوں کی طرف جائے گا۔دیکھو مسلمانوں کی ایجادیں دنیا کے سکھ اور راحت کا موجب ہوا کرتی تھیں کیونکہ ان کا خدا پر ایمان تھا۔غرض خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اس کی دی ہوئی مخفی طاقتوں کی تحقیقات کرنے والے کا ذہن ایسی چیزوں کی طرف جائے گا جو انسان کے لئے سکھ اور راحت کا موجب ہوں لیکن جب خدا تعالیٰ پر ایمان نہ ہو بلکہ اس کے قانون سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہو تو ایسا انسان خواہ دوائیاں ہی کیوں نہ بنانے کی کوشش کرے اس کی کوششوں کا نتیجہ بم اور ہلاکت آفرین ایجادیں ہی ہوں گی۔وہ خواہ