خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 508

* 1941 508 خطبات محمود لگ گئی۔اس پر اسے پھر خربوزوں کا خیال آیا چنانچہ آیا اور ان کو دیکھا مگر ان پر پیشاب کر چکا تھا اس لئے خربوزوں کو حسرت سے دیکھنے لگا۔آخر ان میں سے ایک کو اٹھایا اور کہا کہ اس پر تو پیشاب نہیں پڑا اور اسے کھا گیا۔مضبوط اور جوان آدمی کو ایک خربوزے سے کیا ہوتا ہے۔دس پندرہ منٹ میں ہی پھر بھوک لگ گئی۔پھر آیا اور دوسرا خربوزہ اٹھا کر کہنے لگا کہ اس پر بھی نہیں پڑا تھا اور اسے بھی کھا گیا۔اسی طرح کرتے کرتے سوائے ایک کے سب کھا گیا اور وہ ایک بھی اس لئے چھوڑ دیا کہ کسی ایک پر تو پیشاب پڑنا ماننا ہی پڑتا تھا۔شام کو جب بہت بھوک لگی اور وہ زیادہ تنگ ہوا تو کہنے لگا کہ میں بھی کیسا عجیب آدمی ہوں جن خربوزوں پر پیشاب پڑا تھا وہ تو کھا گیا اور جس پر بالکل نہیں پڑا تھا اسے چھوڑ دیا اور یہ کہہ کر اسے بھی اٹھا کر کھا لیا۔تو بھوک اور پیاس سے ہی کھانے اور پینے میں مزا آتا ہے۔جب بھوک ہو تو ادنیٰ سے ادنی چیز بھی مل جائے تو اس کا بھی مزا آتا ہے۔ایسی حالت میں اگر آدمی کو کہیں سے گنا مل جائے تو اسے بھی وہ لطف لے لے کر چوستا ہے۔بھنے ہوئے دانے مل جائیں یا مکئی کا بھٹا مل جائے تو ایسی لذت آتی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ لوگ مرغ بھون کر کیوں کھاتے ہیں اس سے زیادہ لذیذ تو وہ نہیں ہوتا حالانکہ یہ سب بھوک کی وجہ سے ہے مگر کبھی انسان بھوک کی شکایت کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالیٰ نے بھوک کیا بنا دی ہے، پیاس کیا بنا دی ہے، بیماریاں کیا بنا ئی ہیں، موت کیا بنائی ہے حالانکہ یہ سب دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہیں۔غریبوں کے لئے بیماریاں بھی رحمت ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا بچپن کا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے فرماتے ایک چوہڑا ہمارے ہاں ملازم تھا آ۔ایک دفعہ کھیلتے کھیلتے اس کے گھر چلے گئے اور لڑکے بھی تھے۔ایک دوسرے سے لگے کہ تمہیں کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے اس چوہڑے سے پوچھا تو اس کہا کہ مٹھا مٹھا تاپ ہووے۔مینہ پیدا ہووے تے بھیجے ہوئے دو سیر چھولے ہون اُتے رضائی ہووے۔” یعنی ہلکا ہلکا بخار ہو ، بارش ہو رہی ہو، بھنے ہوئے دو سیر چنے