خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 5

$1941 5 خطبات محمود لگوادے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس نے کم سے کم ذمہ داری ادا کر دی ہے۔حیدر آباد اور سکندر آباد وغیرہ میں امراء کی کثرت اور جماعت کے مخلصین کی حالت کو دیکھ کر میں سمجھتا ہوں پانسو سے کم وہاں نہیں فروخت ہونی چاہئیں۔اور اس طرح ایک ہزار جلدیں تو انہی دو جگہوں میں فروخت ہو جانی چاہئیں۔پھر ہندوستان سے باہر بھی کم سے کم پانسو لگنی چاہئیں اور اگر ساری جماعت پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کرے تو اس کے دس ہزار نسخے فروخت ہو جانے چاہئیں۔سر دست صرف ایک ہزار نسخے باقی ہیں اس لئے جماعتیں اگر جلدی نہ کریں گی تو انہیں بالکل محروم رہنا پڑے گا اس لئے دوستوں کو اس طرف جلد توجہ کرنی چاہئے اور اپنے اپنے علاقوں میں اس کی اشاعت کرنی چاہئے تا آئندہ کے لئے وہاں قرآن کریم کا بیج بو دیا جائے۔اگر انہوں نے جلدی نہ کی تو پھر دوسرے ایڈیشن تک انتظار کرنا پڑے گا جو پہلے کے ختم ہونے پر ہی شائع ہو سکتا ہے اور اس لئے ممکن ہے سال دو سال بعد شائع ہو سکے اور اتنا لمبا وقفہ پڑ جانے سے اپنے دل پر بھی زنگ لگ جاتا ہے اور دوسروں کا جوش بھی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔بعض دوستوں نے تفسیر کی مفت اشاعت کے لئے قیمتیں دی ہیں۔ایک دوست نے سو جلدوں کی، ایک نے ہیں کی اور ایک نے گیارہ کی قیمت دی ہے۔مجھے صرف انہی تین کا ہے۔ہم نے ان کی قیمتیں شکریہ کے ساتھ لے لی ہیں مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک ہی آدمی ڈیڑھ دو سو جلدوں کی قیمت دے دے اور اس طرح مخلصین اپنے اوپر چار چار پانچ پانچ سو کا بوجھ ڈال لیں بلکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ دوسروں میں کتب فروخت کی جائیں ، دوسروں کو مفت دے دینے سے اپنے اوپر تو بوجھ پڑ جاتا ہے مگر فائدہ نہیں ہوتا۔ایسے لوگ جن کو مفت دے دی جائے ان میں سے نوے فیصدی اسے کھول کر بھی نہ دیکھیں گے لیکن جو شخص پانچ چھ روپیہ خرچ کرے گا وہ اسے پڑھے گا بھی۔پس جن دوستوں نے رقوم دی ہیں ان کو ہم نے لے لیا ہے مگر میں یہ نہیں سمجھتا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیا ہے۔یہ ان کی طرف سے زائد نیکی ہے اور نفل ہے۔ان کی ذمہ داری ابھی باقی ہے جو انہیں ادا کرنی چاہئے اور