خطبات محمود (جلد 22) — Page 496
* 1941 496 خطبات محمود ہو، شریف قومیں باہر سے آنے والوں میں سے تو سید ہیں، مغل ہیں، پٹھان ہیں، قریشی ہیں اور اس ملک کے باشندوں میں سے براہمن یا راجپوت ہیں۔جن میں جاٹ بھی شامل ہیں وہ کہنے لگے بالکل درست ہے۔کوئی ہو مغل ہو، پٹھان ہو، قریشی براہمن ہو، راجپوت ہو۔مجھے اس پر خیال آیا کہ میں نے دو دفعہ ان کے سامنے اپنی بات کو دہرایا ہے اور دونوں دفعہ ہی جواب میں یہ سیدوں کو چھوڑ گئے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کے سامنے دو دفعہ اپنی بات دہرائی ہے اور دونوں دفعہ جواب دیتے ہوئے آپ سیدوں کو چھوڑ گئے ہیں۔آیا یہ اتفاق کی بات ہے یا جان بوجھ کر آپ نے ان کا نام نہیں لیا؟ اس پر وہ ہنس کر کہنے لگے میں نے جان بوجھ کر ان کا نام نہیں لیا۔کیونکہ ہمارے علاقہ میں سیدوں کو ذلیل سمجھا جاتا ہے اور عام طور پر لوگ انہیں فقیر سمجھتے ہیں۔اب بتاؤ شریف ہونے کا کوئی ایک معیار کس طرح مقرر کیا جا سکتا ہے۔پس اگر شرافت قومی مراد ہے اور یہ اعتراض کرنے والا اگر انگریز زادہ ہے تو اس کے نزدیک انگریز ہی اشرف ہوں گے۔اگر ہندوستانی ہے تو ہندوستانی اور اگر جرمن یا فرانسیسی ہے تو جرمن یا فرانسیسی۔مگر ہمارے قرآن نے قومیت کو شرافت کا معیار نہیں مقرر کیا بلکہ تقویٰ کو شرافت کا معیار مقرر کیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَّقَى كُمْ 21 یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو بڑا مومن ہو گا وہی زیادہ شریف ہو گا۔اس نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو پھر اس خط کے لکھنے والے کو اس امر کا فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا عیسائی زیادہ عقائد صحیحہ اور اسلامی اصول پر قائم ہیں یا احمدی۔اگر اس کے نزدیک عیسائی اسلام کے بتائے ہوئے اصول تقویٰ پر قائم ہیں تو اس کے عقیدہ کے مطابق وہی زیادہ شریف ہوں گے لیکن اگر ہم عقائد صحیحہ نسبتاً زیادہ قائم ہیں تو ہم عیسائیوں کی نسبت زیادہ شریف ہوں گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ہمیں دینی لحاظ سے عقائد صحیحہ پر کامل طور پر قائم سمجھے۔میں صرف یہ کہتا ہوں