خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 495

* 1941 495 خطبات محمود ہماری جماعت کے ایک احمدی دوست جو غالباً سید تھے یا کسی اور معروف قوم سے تعلق رکھتے تھے مجھے اب صحیح طور پر یاد نہیں رہا۔میں نے ان کے متعلق وہاں تحریک کی تو اس لڑکی کی والدہ اپنے دانتوں تلے انگلی دبا کر کہنے لگی۔“ساڈے لئی ایسی کمینی ذاتاں ہی رہ گیاں ہن ” یعنی ہمارے لئے کیا اب ایسی ہی کمینہ ذاتیں رہ گئی ہیں۔گویا اس کے نزدیک یہ اس کی شدید ترین ہتک تھی کہ وہ اپنی لڑکی سے بیاہ دے۔سید اسی طرح ایک اور نوجوان دوست ایک دفعہ میرے پاس آئے وہ اب فوت ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔کہنے لگے کہ میری ایک ہمشیرہ ہیں اس کے رشتہ کا آپ کہیں انتظام کر دیں اور یہ معاملہ کلیہ اپنے ہاتھ میں لے لیں۔میرے والد صاحب کی بھی یہی خواہش ہے کہ اس کا رشتہ آپ کے ذریعہ ہو۔میں نے کہا۔رشتہ کے متعلق آپ کی کوئی شرط ہو تو مجھے بتا دیں۔ایسا نہ ہو کہ بعد میں آپ کو کوئی اعتراض پیدا ہو۔کہنے لگے قومیت کی کوئی شرط نہیں کسی شریف کا نوجوان ہو۔میں نے کہا شریف کا جو مطلب میں سمجھتا ہوں ممکن ہے وہ مطلب آپ نہ سمجھتے ہوں۔اس لئے بہتر ہے کہ اس کی بھی تشریح کر دی جائے۔کہنے لگے۔شریف سے مراد وہی لوگ ہیں جنہیں عرف عام میں شریف سمجھا جاتا ہے۔یہ کوئی شرط نہیں کہ فلاں قوم میں سے ہو اور فلاں قوم میں سے نہ ہو۔نہ ہو۔میں نے کہا ہمارے ملک میں دو قسم کے لوگ شرفاء کہلاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو باہر سے آئے ہوئے ہیں جیسے سید ہیں، مغل ہیں، پٹھان ہیں، قریشی ہیں اور ایک وہ ہیں پہلے ہی یہاں رہتے تھے جیسے براہمن یا راجپوت وغیرہ ہیں۔آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا اگر ان قوموں میں سے کسی قوم کا رشتہ آپ کو مل جائے۔وہ کہنے لگے بالکل نہیں۔کوئی ہو مغل ہو، پٹھان ہو ، قریشی ہو، برہمن ہو، راجپوت ہو۔میں نے اس پر پھر اپنی بات کو دہرایا اور کہا کہ آپ اچھی طرح سوچ لیں۔عرفِ عام میں