خطبات محمود (جلد 22) — Page 494
* 1941 494 خطبات محمود حالانکہ ہماری ہتک صرف خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے ہوتی ہے اور کسی چیز سے نہیں ہوتی بلکہ اس قسم کے واقعات سے ہماری عزت خدا تعالیٰ کے حضور بڑھتی ہے۔پھر اگر یہ ہتک ہے تو ہم سے بڑھ کر حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک ہوئی ہے کیونکہ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں کیل گاڑے گئے تھے اور انہیں بھی دشمنوں نے صلیب پر لٹکا دیا تھا۔مگر پھر خدا نے اس بات کو چھپایا تو نہیں بلکہ اس نے اپنی کتاب میں اس کو بیان کیا۔پس ہماری ہتک کا کوئی سوال نہیں۔ہمارا قبیلہ بہت سخت جان ہے البتہ جس قبیلہ سے وہ تعلق رکھتا ہے وہ یہ سمجھا کرتا ہے کہ اگر نمبر دار بول پڑا تو ہو جائے گی، تھانیدار بول پڑا تو ہتک ہو جائے گی۔ڈپٹی کمشنر بول پڑا تو ہتک ہو جائے گی مگر ہمارے لئے یہ باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اور نہ ہم ان کی عزت کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔ہماری عزت وہی ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ کے دربار میں حاصل ہے اور ہماری بے عزتی بھی اگر ہو سکتی ہے تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے ہی۔اس کے علاوہ اور کوئی بات ہماری ہتک کا موجب نہیں ہو سکتی۔باقی رہا اس کا ایک طرف مجھے اشرف کہنا اور دوسری طرف یہ لکھنا کہ کیا گورنر تم سے زیادہ شریف نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ شرافت بھی ایک نسبتی چیز ہے اور ہر قوم کے نزدیک شرافت کا الگ الگ معیار ہوا کرتا ہے۔انگریزوں کے نزدیک بڑا اشرف وہ ہے جو نہایت معزز انگریز ہو۔مگر وہ معزز انگریز فرانسیسیوں کے نزدیک اشرف نہیں ہو سکتا۔بلکہ فرانسیسیوں کے نزدیک اشرف وہ ہوگا جو نہایت معزز فرانسیسی ہو۔پھر وہ معزز فرانسیسی بے شک فرانسیسیوں کی نگاہ میں اشرف ہو گا مگر جرمنوں کے نزدیک اشرف نہیں ہو گا۔بلکہ جرمنوں کے نزدیک اشرف وہ ہو گا جو نہایت معزز جرمن ہو۔دور کیوں جاتے ہو اپنی اپنی قوموں کو ہی دیکھ لو کہ ایک قوم کے نزدیک ایک اشرف ہوتا ہے تو دوسری قوم کے نزدیک را۔ایک کشمیری عورت تھی اور اس کی ایک جوان لڑکی تھی۔اس لڑکی کی شادی کا سوال پیدا ہوا تو اس نے مجھے کہا کہ آپ اس کے لئے کوئی رشتہ تلاش کر دیں۔