خطبات محمود (جلد 22) — Page 492
* 1941 خطبات محمود معلوم 492 ہے بلکہ خدا نے ان کو اپنی آخری کتاب میں جو قیامت تک بار بار پڑھی جانے والی نقل کر دیا اور اس طرح ان گالیوں کو چھپایا نہیں بلکہ سب کے سامنے ان کو رکھ دیا۔پس اس مخلص احمدی ” کو یاد رہے کہ ہمارا قبیلہ بڑا سخت جان ہے۔ہمیں گالیاں تریاق ہو کر لگا کرتی ہیں۔البتہ جس خاندان کا وہ آدمی ہے اسے گالیاں بہت بُری ہوتی ہیں۔چنانچہ یہ گالیاں ابو جہل اور یزید وغیرہ کو تو بُرا لگا کرتی تھیں مگر محمد علی کی اور آپ کے صحابہ کو بری نہیں لگتی تھیں۔بس ہمار اخاندان ان گالیوں کو چھپاتا نہیں اور نہ ہی اسے بُری لگتی ہیں بلکہ ہمیں جتنی زیادہ گالیاں دی جائیں اتنی ہی زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور ہماری عزت بڑھتی اور اس کے رجسٹر میں ہمارا نام زیادہ اعزاز کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ہتک اس کی ہے جو ہمارے ساتھ ٹکراتا ہے اور ذلت اس کی ہے جو ہمارے مقابلہ میں بدگوئی اختیار کرتا ہے۔پس اس میں ہماری ہتک کا کوئی سوال نہیں البتہ وہ شخص جو ہمارے ساتھ ٹکرائے گا وہ اپنی ہتک آپ کرے گا ورنہ ہماری تو دنیا کے سارے بادشاہ مل کر بھی ہتک نہیں کر سکتے۔جس طرح ربڑ کا کیند جب زمین پر پھینکا جاتا ہے تو وہ اور زیادہ اچھلتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بندوں کو جب برا بھلا کہا جاتا ہے تو ان کی عزت پہلے سے بڑھ جاتی ہے اور اگر ان کی کوئی ہتک کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔چنانچہ دیکھ لو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لوگوں نے اپنے خیال میں جو ہتک کی اسے خدا نے ہتک قرار نہیں دیا۔اگر ہتک قرار دیتا تو قرآن کریم میں ان واقعات کا ذکر کیوں کرتا۔اسی طرح حضرت ابراہیم، حضرت عیسی اور رسول کریم صلی للی کم کی جنہوں نے اپنے خیال میں ہتک کی اسے خدا نے ہتک نہیں سمجھا حالانکہ اس واقعہ سے بیسیوں گنا زیادہ ذلت پہنچانے کی وہاں کوشش کی گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی دیکھ لو آپ پر پتھر بھی پڑے ، آپ کو گالیاں بھی دی گئیں، آپ کے خلاف بد زبانی بھی کی گئی، آپ کے خلاف مقدمات بھی کئے گئے اور آپ کے خلاف بڑے بڑے اشتہار ، رسائل اور کتابیں بھی لکھی گئیں۔مگر آپ نے ان باتوں کو چھپایا نہیں بلکہ سب باتیں اپنی کتابوں میں بیان