خطبات محمود (جلد 22) — Page 476
خطبات محمود 476 * 1941 پر پڑھا ہے تاکہ بعض وہ مطالب جو تفسیر لکھتے وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کھولے گئے تھے۔وہ میرے ذہن سے اتر نہ جائیں۔پس جہاں پورے درس کا انتظام نہ ہو سکے وہاں تفسیر کبیر کا درس دے کر اسے اس مہینہ میں ختم کر دینا چاہئے۔اسی طرح ان دنوں میں دوستوں کو تہجد کے لئے جگانا اور تراویح کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے مگر تراویح سے مراد وہی تراویح ہیں جو رسول کریم صلی یکم سے مسنون ہیں اور جو در حقیقت تہجد کی نماز ہی ہے۔یہ جو عشاء کے وقت تراویح ھی جاتی ہیں۔یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ست لوگوں کے لئے جاری کی نے دیکھا کہ بہت سے لوگ نیند کے انتظار میں بیٹھ کر گپیں مارتے رہتے ہیں اور اس طرح اپنے وقت کو لغو اور فضول باتوں میں ضائع کرتے ہیں چنانچہ آپ نے مناسب سمجھا کہ ان کو گپوں کی بجائے نماز میں مشغول کر دیا جائے۔پس یہ تراویح سست لوگوں کے لئے جاری کی گئی تھیں۔مگر آجکل ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ ت ہونا ہی بڑے ثواب کی بات ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تہجد پڑھنے کی عادت لوگوں کو کم ہو گئی ہے اور شروع وقت کی تراویح زیادہ پڑھی جاتی ہیں حالانکہ درست نہیں۔وہ تراویح جو رمضان میں عشاء کے بعد پڑھی جاتی ہیں مسنون نہیں ہیں بلکہ وہ قائم مقام مقرر کی گئی ہیں مسنون تراویح کی۔اصل چیز تہجد کی نماز ہے جس کی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں تعریف کی ہے 4 اور جس پر رسول کریم صلی یم کا بھی عمل تھا۔آپ ہمیشہ تہجد پڑھا کرتے تھے اور بعض ایام میں آپ نے تہجد کی نماز باجماعت بھی ادا کی ہے۔5 اسی طریق پر ان لوگوں کے لئے جو یوں تہجد سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔بعض نے یہ طریق رائج کر دیا کہ تہجد کے وقت ایک امام لوگوں کو نماز پڑھا دے اور اس طرح وہ قرآن کریم سن لیا کریں مگر جو سست لوگ تھے اور اس وقت وہ شامل نہیں ہوا کرتے تھے ان کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ انتظام کر دیا کہ عشاء کے وقت وہ ایک امام کی متابعت میں تراویح پڑھ لیا کریں۔مگر بہر حال یہ انتظام سب کے لئے نہیں بلکہ سستوں کے لئے ہے اور یا پھر