خطبات محمود (جلد 22) — Page 444
خطبات محمود 444 * 1941 خیر میں نے وہ پیکٹ درد صاحب کو دیا اور کہا کہ یہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے اور چونکہ ممکن ہے کہ اس قسم کے ٹریکٹ تمام پنجاب کے نوجوانوں میں عام طور پر تقسیم کئے جا رہے ہوں اس لئے آپ فوراً یہ پیکٹ ہز ایکسی لینسی گورنر صاحب پنجاب کو بھجوا دیں اور انہیں لکھ دیں کہ میرے لڑکے خلیل احمد کے نام ایسا پیکس آیا ہے اور چونکہ ممکن ہے کہ اور پنجاب کے نوجوانوں کے نام بھی اسی طرح ٹریکٹ اور اشتہارات وغیرہ بھیجے گئے ہوں اس لئے یہ پیکٹ آپ کو بھیجوایا جاتا ہے۔اس کے متعلق جو محکمانہ کارروائی کرنا مناسب سمجھیں کریں۔میں یہ بات کر ہے۔کے واپس ہی لوٹا تھا کہ ایک آدمی نیچے سے آیا اور درد صاحب سے کہنے لگا کہ پولیس والے آئے ہیں اور وہ آپ کو بلاتے ہیں۔میں نے اس آدمی کو نہیں دیکھا کیونکہ وہ سیڑھیوں کے موڑ کے پیچھے تھا۔یہ بات سن کر میں نے درد صاحب سے کہا کہ آپ جائیں اور جا کر معلوم کریں کہ پولیس والے کیا کہتے ہیں۔درد صاحب گئے اور تین چار منٹ کے بعد ہی واپس آگئے۔انہوں نے مجھے کہا کہ پولیس کے کچھ سپاہی آئے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا خلیل احمد صاحب سے ملنا درد صاحب کہنے لگے کہ میں نے انہیں کہا کہ خلیل تو بچہ ہے اس سے آپ نے کیا بات کہنی ہے۔جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں وہ مجھے لکھ کر دے دیں۔مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ ہم اسی سے بات کرنا چاہتے ہیں۔اور اس بارہ میں ہم کچھ لکھ کر نہیں دے سکتے۔درد صاحب کچھ اور باتیں بھی کرنا چاہتے تھے مگر میں نے اس خیال سے کہ معمولی بات ہے ان سے کہا کہ کوئی حرج کی بات نہیں میں خلیل کو بھجوا دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے اُسی وقت خلیل احمد کو بھجوا دیا۔چند منٹ کے بعد ہی خلیل احمد واپس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ سپاہیوں نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا اس قسم کا پیکٹ تمہارے نام آیا ہے اور میں نے کہا کہ ہاں آیا ہے مگر میں نے اپنے ابا کو دے دیا ہے۔پھر پولیس والوں نے اس پیکٹ کی طرف اشارہ کر کے (جو درد صاحب نیچے لے گئے تھے ) مجھے کہا کہ یہ پیکٹ اپنے ہاتھ میں لے کر کھول دو۔