خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 406

* 1941 406 خطبات محمود جماعت نظر نہیں آتی تھی جس میں شامل ہو کر وہ اپنی اس خواہش کو پورا کر سکیں۔جب انہوں نے دیکھا کہ جماعت احمدیہ کی صورت میں ایک بنا بنایا جتھہ موجود ہے اور اس میں قربانی اور ایثار کا مادہ پایا جاتا ہے تو وہ اس جماعت میں شامل ہو گئے تاکہ اس سامان سے فائدہ اٹھا کر جو اس جماعت کے پاس ہیں وہ ایک مضبوط انجمن بنائیں اور دنیوی انجمنوں کی طرح سلسلہ کے کاروبار کو چلائیں۔غرض آپ نے فرمایا۔تین قسم کے گروہ ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں اور واقعات نے بھی ثابت کر دیا کہ یہی تین قسم کے گروہ ہماری جماعت میں تھے۔ނ پس یہ بات کہ انسان اپنے آپ کو اصلاح کے لئے سپرد نہ کرے۔ترقی میں بہت بڑی روک ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص ایسا ہو تو اس کی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے مثلاً وہی گروہ جس کا جماعت سے تعلق حضرت خلیفہ اول کی وجہ سے تھا۔اس کے لئے ٹھوکر کا امکان تھا۔یہ تو اتفاق کی بات ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسے آدمی کے ساتھ تھا جو خدا کا پیارا تھا اور چونکہ حضرت خلیفہ اول خود خدا تعالیٰ کے پیارے تھے اس لئے ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ بھی ٹھوکر بچ گئے لیکن فرض کرو ان کا تعلق کسی اور شخص مثلاً عبد الحکیم مرتد سے ہوتا تو جب عبد الحلیم کو لو ٹھوکر لگی تھی اسی وقت ان کو بھی لگ جاتی۔یہ تو حسن اتفاق ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوا جو خدا تعالیٰ کا محبوب بندہ تھا اور جس نے اس قسم کی ٹھوکروں اور ابتلاؤں سے محفوظ رہنا تھا۔لیکن دوسری جماعت پھسلی اور بُری طرح پھلی۔جب اس جماعت کے افراد نے دیکھا کہ اب ان کا وہ جوش و خروش کہ جماعت ایک انجمن کے ماتحت ہو اور اس کا نظام ویسا ہی ہو جیسے یورپین اقوام کا نظام ہوتا ہے پورا نہیں ہوا تو انہوں نے ایک نیا مشغلہ اختیار کر لیا چنانچہ اب رات اور دن وہ قادیان اور قادیان والوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں اور کُجا تو یہ حالت کہ وہ قادیان سے ایک دن کی جدائی بھی برداشت نہیں کر سکے تھے اور کجا ان کی حالت ہو گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں (نعوذ بالله ) قادیان دمشق ہے۔قادیان میں