خطبات محمود (جلد 22) — Page 405
* 1941 405 خطبات محمود ها الله سة کوئی کس طرح کام لے سکتا اور کس طرح اس کی اصلاح کر سکتا ہے۔ایسے لوگوں کی درستی کی جب خدا بھی ذمہ داری نہیں لیتا تو بندہ کس طرح ان کی اصلاح کی ذمہ داری لے سکتا ہے؟ یوں تو بندہ کسی کا بھی ذمہ دار نہیں لیکن اگر بندہ کسی کی ذمہ داری لے سکتا ہے تو اسی شخص کی جو اپنے آپ کو بے جان کی طرح ڈال دے اور جماعتی فیصلہ کو صحیح تسلیم کرے۔اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اس رنگ میں اصلاح کے لئے سپرد نہ کرے اور بیس سال تک بھی صحبت میں رہے تو اس کی وہ صحبت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔آخر مدینہ کے منافقین آٹھ آٹھ نو نو سال رسول کریم صل ال ظلم کی صحبت میں رہے تھے مگر ان کی اصلاح نہ ہوئی اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو رسول کریم صلی الم کے سپرد نہیں کیا تھا۔یہ نہیں کہا تھا کہ آپ جس طرح چاہیں اصلاح کریں بلکہ ہمیشہ ان کا یہی طریق رہا کہ جو بات ان کے منشاء کے مطابق ہوتی اسے مان لیتے اور جو منشاء کے مطابق نہ ہوتی اسے رد کر دیتے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی ایسے لوگوں کی اصلاح کا ذمہ نہیں لے سکتے تھے۔چنانچہ باوجود اس بات کے کہ جماعت کے بعض لوگ پندرہ پندرہ ہیں ہیں سال آپ کی صحبت میں رہے وفات کے قریب آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جنہوں نے ہم کو دیکھا ہمارے دعوی کو سمجھا اور ہمیں سچے دل سے مان لیا مگر ایک دوسرا گروہ وہ ہے جس نے ہمیں نہیں دیکھا بلکہ مولوی نور الدین صاحب کو دیکھا اور ان کے علم، ان کی خدمات اور ان کی بنی نوع انسان سے ہمدردی کو دیکھ کر سینکڑوں آدمی جو اُن کے دوست تھے احمدیت میں شامل ہو گئے اور انہوں نے سمجھا کہ جب مولوی نور الدین صاحب احمدی گئے ہیں تو ضرور یہ سلسلہ سچا ہو گا۔پس ان کا ہمارے ساتھ تعلق مولوی صاحب کے طفیل ہے۔اگر خدانخواستہ مولوی صاحب کسی ابتلاء میں آ جائیں تو ان کو بھی ابتلاء آجائے گا۔پھر فرمایا تیسرا گروہ اُن نوجوانوں کا ہے جو اِدھر اُدھر پھر رہے تھے۔ان کے دلوں میں جوش تھا اور وہ چاہتے تھے کہ کوئی کام کر کے دکھائیں مگر انہیں کوئی