خطبات محمود (جلد 22) — Page 401
* 1941 401 خطبات محمود ہے جس ہے ایسے عجیب واقعات نظر آتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔خود مجھے جماعت کے کئی لوگ دعاؤں کے لئے لکھتے رہتے ہیں اور ایسے شدید اضطراب کے ساتھ لکھتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے اگر ان کی خواہش پوری ہو گئی تو ہمیشہ کے لئے ان کو سکون قلب اور اطمینان حاصل ہو جائے گا مگر جب ان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے اور جس چیز کے حصول کے لئے وہ پے در پے دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں انہیں مل جاتی تو انہیں اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں رہتی۔تمام ولولے ختم ہو جاتے ہیں، تمام جوش سرد پڑ جاتے ہیں اور ان کی تمام خواہشیں مٹ جاتی ہیں۔یہی وہ مرض سے بے استقلالی پیدا ہوتی ہے۔بے استقلالی در حقیقت اسی قسم کی حالت کا جو جنون کی حد تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے ایک چھوٹا درجہ ہے اور بے استقلالی اسی کا نام ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ بڑا اچھا آدمی ہے۔پھر اس سے دوستی پیدا کر لیتا ہے مگر چند دنوں کے بعد ہی اس دوستی کو توڑ دیتا ہے۔ایک عقیدہ کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بڑا اچھا عقیدہ ہے چنانچہ اس عقیدہ کو اختیار بھی کر لیتا ہے مگر چند دنوں کے بعد ہی اس عقیدہ کو ترک کر دیتا ہے۔ایک مذہب کو دیکھتا ہے تو اس کی خوبیوں کا فریفتہ ہو جاتا ہے مگر چند دنوں کے بعد ہی اس کا تمام جوش و خروش جاتا رہتا ہے اور اسی مذہب میں اسے سینکڑوں نقائص اور عیوب نظر آنے لگ جاتے ہیں۔سینکڑوں مثالیں اس قسم کی ملتی ہیں کہ لوگ آئیں گے اور بڑے جوش سے اپنی عقیدت کا اظہار کریں گے۔کہیں گے ہمیں تو ایک موتی مل گیا، ایک لاثانی جوہر ہم کو حاصل ہو گیا، اطمینانِ قلب جو برسوں سے ہمیں میسر نہیں تھا آج خدا نے ہمیں عطا کر دیا۔دل کو تسکین حاصل ہو گئی۔خدا نے ایک نور ہمارے اندر بھر دیا اور ہمیں احمدیت کیا ملی ہمیں تو خدا مل گیا، ہمیں خدا کا رسول ملگ غرض ان کی حالت کو اس وقت دیکھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیا ابو بکر ہمارے سلسلہ میں داخل ہو رہا ہے، ایک نیا عمر ہمیں خدا دے رہا ہے۔ایک نیا عثمان ظاہر ہو رہا ہے یا ایک نیا علی ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔مگر تین چار ماہ کے بعد