خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 40

خطبات محمود 40 $1941 نے فرمایا کہ نہیں سو کی تو کوئی ضرورت نہیں ہم تو ایک بھی ہو تو مان لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اچھا پچاس لے آؤں؟ آپ نے فرمایا میں تو ایک کو بھی ماننے کو تیار ہوں۔آخر میاں نظام الدین صاحب نے کہا اچھا میں دس آیات لکھوا لاتا ہوں کیا آپ ان کو دیکھ کر اپنے خیال سے رجوع کر لیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ ہم تو ایک آیت بھی دیکھ کر رجوع کر لیں گے۔اس پر وہ اٹھے اور کہا پھر یہ وعدہ کریں کہ لاہور چل کر شاہی مسجد میں اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے تاکہ سب ملک کو ہو جائے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا۔وہ خوش خوش لاہور کی طرف روانہ معلوم۔ہو گئے جہاں اُس وقت مولوی محمد حسین صاحب اُن دنوں مخالفت کا شور بلند کر تھے اور چینیاں والی مسجد میں جہاں اہلحدیثوں کا جمعہ ہوتا ہے اس میں مقیم تھے۔اتفاق سے حضرت خلیفہ اول بھی ان دنوں چھٹی لے کر یہاں آئے ہوئے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب نے ان کے خلاف بھی اشتہار بازی شروع کر رکھی تھی کہ کافر کا چیلا یہاں آگیا ہے اور اعتراض کر رہے تھے۔حضرت خلیفہ اول بھی جواب یتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ قرآن کریم کی جو تفسیر احادیث میں ہو وہی قابل قبول ہے اور آپ فرماتے تھے کہ بعض احادیث غلط بھی ہو سکتی ہیں۔آخر آپ نے مان لیا کہ اچھا قرآن کریم اور بخاری میں جو بات ہو وہ میں مان لوں گا اور مولوی محمد حسین صاحب اپنے معتقدین میں بیٹھے بڑے زور سے یہ کہہ ہے تھے کہ دیکھا میں نے کس طرح نور الدین کو قابو کیا اور آخر حدیث کی طرف لے آیا ہوں۔انہیں اپنی تعریف آپ کرنے کی بہت عادت تھی اور اس بات کو بڑے فخر سے بیان کر رہے تھے کہ اُدھر سے میاں نظام الدین پہنچ گئے اور کہا کہ بس چھوڑیئے اب فیصلہ ہو گیا۔میں قادیان گیا تھا مرزا صاحب میرے دوست مجھے یقین تھا کہ وہ قرآن کریم کو نہیں چھوڑ سکتے۔اب میں آیا ہوں اور اُن سے فیصلہ کر آیا ہوں کہ دس آیات وفات مسیح کی تائید میں میں ان کو دکھا دوں گا اور وہ شاہی مسجد میں آکر اپنے خیالات سے توبہ کر لیں گے۔بس آپ مجھے