خطبات محمود (جلد 22) — Page 351
* 1941 352 خطبات محمود بڑی غیرت دکھاتے ہیں۔ہم میں بڑا تقویٰ ہے کہ دوسروں کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔مگر ہم ایک طرف اس ہستی کو دیکھتے ہیں جس نے ہمیں دین سکھایا جس کے بغیر ہم دین کو ہر گز نہ جان سکتے تھے کہ لوگ اسے مارتے ہیں۔گتے پیچھے ڈالتے ہیں۔ایک طرف کتے کاٹنے کو دوڑتے ہیں اور دوسری طرف سے لڑکے پتھر مارتے جاتے ہیں اور آپ زخمی ہونے کی حالت میں بھاگے جاتے ہیں کہ رستہ میں ایک فرشتہ ملتا اور کہتا ہے کہ آپ کے ساتھ ان لوگوں نے جو سلوک کیا وہ خدا تعالیٰ کو بہت ناپسند ہوا اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر آپ کہیں تو ان لوگوں کے ساتھ لوط کی بستی والا سلوک کیا جائے۔یعنی اس بستی کو اُلٹا کر پھینک دیا جائے۔مگر آپ جواب دیتے ہیں کہ اگر یہ شہر اس طرح تباہ ہو گیا تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔4 میں یہ نہیں چاہتا۔میں تو ان لوگوں کی ہدایت چاہتا ہوں۔مکہ والوں نے بھی آنحضرت صلی الله اعلم کے ساتھ بڑی سختیاں کی تھیں۔مگر اس قسم کا وحشیانہ سلوک صرف طائف والوں کا سة علیدوم ہی حصہ تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ طائف کو سب سے آخر میں ایمان نصیب ہوا۔مکہ بھی آخر میں مسلمان ہوا اور طائف اس کے بھی بعد مگر رسول کریم صلی الم نے ان کے لئے بھی بد دعا نہیں کی بلکہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہونے لگا تو پھر بھی سفارش ہی کی اور یہی کہا کہ اے میرے خدا یہ لوگ جانتے نہیں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ہم لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ ہم میں رسول کریم صلی الی سے بڑھ کر تو غیرت نہیں ہو سکتی۔دین کے لئے جو غیرت آپ کے دل میں ہو سکتی تھی وہ ہم میں سے کس کے دل میں ہو سکتی ہے۔کئی نادان بعض کمزور حدیثوں کی بناء پر کہا کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا مشورہ یہ تھا کہ بدر کے قیدیوں کو قتل کر دیا جائے مگر رسول کریم صلی ال ولیم نے فرمایا کہ نہیں۔فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے۔اور وہ کہتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ الله تعالیٰ کو اس بات پر اتنا غصہ آیا کہ قریب تھا کہ مسلمانوں کو تہ و بالا کر دیا جائے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا۔حضرت عمر