خطبات محمود (جلد 22) — Page 352
* 1941 353 خطبات محمود کے لئے اور بہت سی بڑائیاں ہیں۔وہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسے گوہر تھے کہ ان کی قدر نہ کرنا بہت بڑی ناشکری ہے مگر میں بچپن سے لے کر اب تک کبھی یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ یہ لوگ کس طرح حضرت عمرؓ کو بڑھانے کے لئے رسول کریم کے مقام کو گھٹانے کی جرات کرتے ہیں۔اگر آج حضرت عمر زندہ ہوں اور احادیث ان کے سامنے پیش کی جائیں۔تو وہ کہیں کہ کاش! زمین پھٹ جائے اور میں یہ سننے کی بجائے اس میں سما جاؤں یہ نادان دیکھتے نہیں کہ قرآن کریم نے صاف فرمایا ہے کہ فَإِمَّا مَنَا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء ) یعنی اول تو احسان کر کے قیدی چھوڑ دیئے جائیں نہیں تو فدیہ لے کر چھوڑ دیئے جائیں۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جس بات خدا تعالیٰ کو پہلے اس قدر غصہ آیا کہ وہ مسلمانوں کو تباہ کرنے پر تیار ہو گیا۔بعد پر میں وہی حکم خود دے دیا اس کے تو یہ معنے ہیں کہ گویا بعد میں خدا تعالیٰ پچھتایا اور کہا کہ پہلے میں غلطی پر تھا۔دراصل بات وہی صحیح تھی جو محمد (صلی ال نے کہی۔یہ بات خدا تعالیٰ کی ہتک ہے۔ہم مانتے ہیں کہ بعض احکام بدل بھی جایا کرتے ہیں مگر وہ عارضی حالات کے ماتحت ہوتے ہیں اور اگر ان میں کسی سے غلطی ہو جائے تو اس پر خدا تعالیٰ کو اتنا غضب نہیں آتا کہ قوم کی قوم کو تباہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ایسا غضب صرف ان باتوں پر آتا ہے جو ازلی طور پر گناہ ہوں۔مصلحتی کے سلسلہ میں اس کا غضب اس طرح نہیں بھڑکا کرتا اور یہاں تو یہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا وہ آنحضرت صلی للی کام سے بھی زیادہ نرم ہے۔چنانچہ فرمایا کہ اول تو احسان کر کے یونہی چھوڑ دو اور اگر اس طرح نہیں چھوڑ سکتے تو فدیہ لے لو۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ جس آیت کو اس بات کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے کہ جنگ کے قیدیوں کو مار ڈالنا چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک خونریزی نہ ہو نبی کے لئے جائز نہیں کہ قیدی بنائے اور بدر کی جنگ میں خونریزی ہو چکی تھی۔اس لئے اعتراض کیسا؟ اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ پہلے خونریزی ہو احکام تب قیدی بنانے جائز ہیں 7۔اور اس پر آنحضرت صلی علی رام نے عمل کیا تھا۔پھر آپ پر