خطبات محمود (جلد 22) — Page 35
خطبات محمود 35 $1941 ہے تو استغفار کرتا رہے۔یہی حال زمیندار کا ہو وہ پورے زور کے ساتھ ہل چلا رہا ہو مگر دل میں ذکر الہی کرتا رہے۔یہ دونوں کام ایک ہی وقت ہو سکتے ہیں۔صرف یہ کافی نہیں کہ صبح کی نماز پڑھ لی ہے اور اب ظہر کی پڑھنی ہے اور ظہر کی پڑھ لی اب عصر کی پڑھنی ہے بلکہ جب بھی موقع ملے خدا تعالیٰ کو یاد کرتا رہے۔یہی وہ چیز ہے جو روح کو طاقت دیتی اور دل کو صاف کرتی ہے اور اسی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکتا ہے۔پس اس زمانہ میں شہروں اور قصبوں میں جو دقتیں ہیں ان کے لحاظ سے ان جگہوں کے رہنے والوں کو ان امور کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ہے۔خصوصاً لاہور میں جہاں میلوں کا فاصلہ ہے۔بے شک اس زمانہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے سواریاں بھی ہیں مگر وہ سب کو میسر نہیں اور لاہور میں تو وہ ابھی رائج بھی نہیں۔یورپ میں شہروں کے اندر بھی ریلیں چلتی ہیں، بیں ہیں اور بھی کئی قسم کی سواریاں ہیں مگر یہاں گلیوں کی تنگی کی وجہ سے ایسا انتظام ہو جاتے ہیں۔لاہور بھی مشکل ہے۔اس لئے لوگ باجماعت نمازوں میں سے میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو میں نے سنا ہے جمعہ میں بھی سستی کرتے ہیں مگر لوگ بالکل مردہ دل ہوتے ہیں اور اس موقع پر میں ان کا ذکر نہیں کر رہا ان کے لئے اور قسم کی نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت تو میرے مخاطب وہ ہیں جو باقاعدہ نمازیں ادا کرتے ہیں اور باجماعت نماز کی کوشش بھی کرتے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ ان کی یہ حالت بھی قابل تسلی نہیں۔ان کو اور آگے بڑھنا چاہئے اور ذکر اذکار کی عادت ڈالنی چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ ذکر اذکار کو غیر ضروری اور حقیر کام سمجھتے ہیں۔بہت ہی کم ہیں جن کو میں نے اس طرف متوجہ دیکھا ہے۔بیشک ایسے لوگ ہیں جو مساجد میں بیٹھ کر تسبیح و تحمید کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم ہے۔تسبیح و تحمید کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہاتھ میں ضرور تسبیح پکڑ لی جائے بلکہ زبان سے اور دل و دماغ سے خدا تعالیٰ کی یاد کرنی چاہئے۔مگر بہت کم لوگ ایسا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دلوں میں صفائی پیدا لوگ