خطبات محمود (جلد 22) — Page 331
* 1941 332 خطبات محمود گزر گئے مگر اب تک وہ چار ہزار ہی ہے اور اس کی تعداد میں کوئی اضافہ ہونے میں نہیں آتا۔بلکہ اگر اس کا قدم اٹھتا ہے تو تنزل اور کمی کی طرف۔چنانچہ میں نے بار ہا چیلنج کیا ہے کہ وہ لوگ جو تم میں سے نکل کر ہم میں شامل ہوئے ہیں ان کی بھی گنتی کر لو اور جو لوگ ہم میں سے نکل کر تم میں شامل ہوئے ہیں ان کی بھی گنتی کر لو۔پھر تمہیں خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑھ رہا ہے اور کون گھٹ رہا ہے مگر انہوں نے کبھی اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔اسی طرح میں نے بار بار چیلنج ہے کہ تم اس بات میں بھی ہمارا مقابلہ کر لو کہ تمہارے ذریعہ سے کتنے لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں اور ہمارے ذریعہ سے کتنے لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں مگر انہیں کبھی اس مقابلہ کی توفیق بھی نہیں ملی۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے مقابلہ کیا تو ان کا پول کھل جائے گا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود السلام فرماتے ہیں “خدا نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ اس سلسلہ کو ترقی گا اور اسے ، باقی تمام فرقوں پر غالب کرے گا۔” بعد میں جو خرابیاں پیدا ہیں اور جن میں مبتلا ہو کر لوگ خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں وہ کسی سلسلہ کی صداقت پر حرف نہیں لاتیں کیونکہ اس وقت تک سلسلہ پر غلبہ کا زمانہ آ چکا مگر اس سے پہلے خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہوتی ہے کہ اگر پانچ دس مرتد ہوتے ہیں تو ان کی جگہ سو دو سو آدمیوں کو اللہ تعالیٰ لے آتا ہے لیکن پیغامی ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ چار لاکھ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر حقیقی مسلمان بنے تھے اور جو ترقی کرتے کرتے دس لاکھ تک پہنچ گئے تھے وہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر معا چند ہزار رہ گئے اور باقی سب کافر اور مرتد ہو گئے۔گویا وہ پیشگوئی جو خد اتعالیٰ نے بار بار کی تھی اور جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس نے بار بار خبر دی تھی وہ بُری طرح ناکام ہوئی اور نَعُوذُ بِاللهِ بالکل جھوٹی ثابت ہوئی۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ابتلاؤں کے طوفان کا ایک ریلا آتا ہے جس میں عارضی طور پر بعض لوگ ڈگمگا جاتے ہیں۔اگر ایسا ہوتا تو بھی یہ بات کسی حد تک ہے