خطبات محمود (جلد 22) — Page 30
$1941 30 خطبات محمود اور دوسری طرف ذکر الہی کرنا، کثرت سے درود شریف پڑھنا اور خدا تعالیٰ کی یاد میں کچھ وقت خاموش بیٹھنا اور اس کی صفات پر غور و فکر کرنا ضروری ہے۔پھر نمازوں کی باقاعدگی اور نماز میں دعائیں کرنا بھی ضروری ہے۔نفسانی تربیت ایسے ہی ہے جیسے جسمانی غذا، نماز کی ظاہری حرکات، روزے یا دوسرے ضروری امور مثلاً چندے وغیرہ دینا، تبلیغ کرنا بھی روحانیت کی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں۔دعا دل اور ارادوں تطہیر اور ذکر الہی نئی طاقتیں پیدا کرتے ہیں اور پہلی طاقتوں کو نشو و نما دیتے ہیں سب چیزیں مل کر ہی روحانیت کو طاقت دے سکتی ہیں۔دونوں میں انسان ترقی کرے تو اس کی روحانیت میں ترقی ہو سکتی ہے اس کے بغیر نہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس زمانہ میں مغربی تعلیم کے زیر اثر ذکر الہی اور دل کی تطہیر کی طرف توجہ بہت کم ہے او رلوگ بالعموم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو ایک سودا سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب ہم نے فرض ادا کر دیا تو اور کوئی ذمہ داری ہم پر باقی نہیں رہی۔حالانکہ فرائض کی ادائیگی صرف انسان کو سزا سے بچا صرف انسان کو سزا سے جا سکتی ہے۔انعام کا مستحق : اسے صرف نوافل ہی بنا سکتے ہیں۔حکومتیں کئی قسم کے ٹیکس لگاتی ہیں۔مثلاً بعض میونسپل ٹیکس ہیں، انکم ٹیکس ہے یا بعض اور ٹیکس ہوتے ہیں جنہیں انسان ادا کرتا ہے یا منی آرڈر وغیرہ پر فیس ہوتی ہے۔کیا کوئی جاہل سے جاہل بھی کبھی افسروں سے کہتا ہے کہ میں نے منی آرڈروں کی فیس کے طور پر ہزاروں روپے حکومت کے خزانے میں داخل کئے ہیں مجھے خطاب دیا جائے؟ اگر کوئی یہ کہے بھی تو وہ کہہ دیں گے کہ تم نے فیس دی اور ہم نے تمہار اروپیہ پہنچا دیا بات ختم ہو گئی۔خطاب کس بات کا؟ پس فرائض کی ادائیگی کسی انعام کا مستحق نہیں بنا سکتی۔انعام کے طالب وہی ہو سکتے ہیں جو کوئی زائد کام کریں۔محض ٹیکس کا ادا کرنا کسی خطاب کا مستحق نہیں بنا سکتا۔ہاں اگر کسی ملک یا شہر میں فساد ہو اور کوئی شخص اسے فرو کرنے میں مدد دے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ فرض کے طور پر میرا کام صرف یہ تھا کہ میں کسی فساد میں حصہ نہ لوں۔مگر میں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پولیس کے ساتھ مل کر