خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 29

*1941 29 خطبات محمود آدمی ساتھ بھیجا کہ نسخہ معلوم کر آئے۔وہاں وہ جا کر دو چار روز رہا اور پھر کہا کہ بتائیے کیا نسخہ ہے؟ بادشاہ نے کہا کہ آپ کل صبح آ جائیں میں بتاؤں گا۔چنانچہ وہ اگلی چلا گیا۔بادشاہ اپنے کام میں مشغول رہا جب ناشتہ کا وقت آیا تو بادشاہ نے قریباً آدھ سیر بادام، پستہ، کشمش اور مرغ مسلّم کے کباب کھائے اور اس کے بعد کچھ اور کاموں میں مشغول ہوگئے۔دوپہر کے کھانے کا وقت آیا تو پھر دنبے کا پلاؤ اور اس کی چکی اور اسی قسم کے آٹھ دس کھانے اور کھائے۔عصر کے وقت پھر مرغ مسلّم کھایا اور بادام اور پستہ پھانکا۔اسی طرح شام کو بھی کھایا مگر مہاراجہ صاحب کے آدمی سے کوئی بات نہ کی۔عشاء کے وقت اس نے کہا کہ آپ نے فرمایا تھا نسخہ بتائیں گے بتایا کوئی نہیں۔بادشاہ نے کہا کہ سارا دن بتاتا تو رہا ہوں۔مہاراجہ صاحب سے سے کہہ دیں کہ ان کے ملک میں لوگ غذا ہی ایسی نہیں کھاتے جس سے کثرت اولاد پیدا ہو۔اس سوال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک انسان سارا دن ہل چلاتا ہے، ہاتھ سے اپنے جانوروں کے لئے چارہ لاتا اور اسے کرتا ہے، دودھ دوہتا ہے اور اسی طرح مشقت کے کام سارا دن کرتا اور پھر اس کے بعد سوکھی روٹی لتی کے ساتھ یا دودھ یا مکھن کے ساتھ کھا لیتا ہے تو اس کے جسم میں جس قسم کی طاقت پیدا ہو گی وہ ایسے شخص میں کہاں ہو سکتی ہے جو دس پندرہ مر جو دس پندرہ مرغن غذائیں کھا کر سارا دن چار پائی پر بیٹھا رہتا ہے۔قوت زیادہ کھانے سے نہیں بلکہ ہاضمہ پیدا ہوتی ہے۔بالکل یہی حال روحانیات میں ہے۔جو لوگ ذکر الہی تو کرتے ہیں مگر نفس کی تربیت نہیں کرتے ان کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور جو ذکر الہی نہیں کرتے اور صرف تربیت نفس کی طرف ہی متوجہ رہتے ہیں وہ بھی محروم رہتے ہیں۔جس طرح جسمانیات میں اگر کوئی شخص ورزش تو کرے مگر کھائے کچھ نہیں بیمار ہو جاتا ہے اور جو زیادہ کھاتا تو رہے مگر ورزش نہ کرے وہ بھی بیمار ہو جاتا ہے۔صحت کی درستی اور طاقت کے لئے دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔یہی حال روحانیت ایک طرف قلب، خیالات اور ارادوں کو پاک و صاف کرنا ضروری ہے اور ہے۔