خطبات محمود (جلد 22) — Page 280
* 1941 281 خطبات محمود کی چادر اوڑھنے کا ذریعہ یہ ہے کہ انسان خدا کے ساتھ متصل ہو جائے اور اس کی روح خدا کی صفات میں منظم ہو جائے حتی کہ اس کے ارادے وہی ہو جائیں جو خدا کے ارادے ہیں، اس کی خواہشات وہی ہو جائیں جو خدا کی خواہشات ہیں اور اس کے مقاصد وہی ہو جائیں جو خدا کے مقاصد ہیں۔تب بندہ ایک رنگ میں خدا ہی بن جاتا اور جو کچھ وہ چاہتا ہے وہی کچھ ہو جاتا ہے۔نادان لوگ اسے دیکھ کر بعض دفعہ ہے کہنے لگ جاتے ہیں کہ وہ بندہ اپنے اندر خدائی صفات رکھتا ہے۔حالانکہ بات ہوتی کہ اس کے اندر خدائی صفات آ جاتی ہیں۔بلکہ بات یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنی مرضی کو قربان کر کے خدا کی مرضی کو اختیار کیا ہوا ہوتا ہے اور گو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے وہی ہو جاتا ہے مگر دراصل وہ اپنی ذات میں کچھ چاہتا ہی نہیں۔وہ وہی کچھ چاہتا ہے جو خدا چاہتا ہے اور چونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہ در حقیقت خدا کا ارادہ اور اس کا منشاء ہوتا ہے اس لئے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی بات پوری ہوئی حالانکہ اس کی بات نہیں بلکہ خدا کی بات پوری ہوتی ہے۔لوگ تو صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ فلاں شخص کی زبان سے بات نکلی اور وہ پوری ہو گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی زبان میں بڑی تاثیر ہے حالانکہ اس کی زبان میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی بلکہ تاثیر اس لئے ہوتی ہے کہ اس نے اپنی زبان کاٹ دی ہوتی ہے، اس نے اپنے وجود کو مٹا دیا ہوتا ہے، اور اس کی اپنی کوئی خواہش رہتی ہی نہیں۔اس لئے جب وہ بولتا ہے تو اس کی زبان نہیں بولتی بلکہ خدا کی زبان بولتی ہے اور جب اس کی بات پوری ہوتی ہے تو اس کی بات پوری نہیں ہوتی بلکہ خدا کی بات پوری ہوتی ہے۔یہی مطلب رسول کریم صلی اہل علم کی اس حدیث کا ہے کہ اس کے ہاتھ خدا کے ہاتھ ہو جاتے ہیں۔یعنی وہ اپنے ہاتھوں کو معطل کر دیتا اور انہیں ایک آلہ کی طرح خدا کے ہاتھ میں دے دیتا ہے جس طرح قلم نہیں لکھتی بلکہ ہاتھ لکھتا ہے۔اسی طرح جو کچھ اس کے ہاتھ کرتے ہیں وہ اس کے ہاتھ نہیں کرتے بلکہ خدا کے ہاتھ