خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 205

1941 206 خطبات محمود فلاں شہر پر یوں حملہ ہوا اور فلاں جگہ اس طرح لوگ مارے گئے۔ان کو سوچنا چاہئے کہ جو مارے جاتے ہیں وہ بھی کسی کے باپ ہیں، کسی کے بیٹے ہیں اور کسی کے بھائی ہیں۔کوئی اپنے پیچھے روتی ہوئی بیوہ، کوئی ماں اور کوئی یتیم بچے چھوڑ رہا ہے۔ان حالات میں ان خبروں کو پڑھتے ہوئے تو یوں محسوس ہونا چاہئے کہ گویا کسی قریبی رشتہ دار کی لاش پر انسان کھڑا ہو۔یہ گریہ و زاری کرنے کے دن ہیں۔ایسی گریه و زاری جو عرش الہی کو ہلا دے۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے اور اگر زندہ خدا کی موجودگی میں ہم ان بلاؤں سے بچنے کی کوشش نہ کریں تو ہم سے زیادہ غافل کون ہو سکتا ہے۔دنیا کو اپنے اسباب اور جنگ کے سامانوں یعنی توپوں، مشین گنوں اور ہوائی جہازوں پر بھروسہ ہے مگر ہمارا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہے۔وہ لوگ ان سامانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔انگلستان کیا اور جرمنی کیا، جاپان کیا اور امریکہ کیا سب مرد اور عورتیں دن اور رات بم، تو ہیں، ہوائی جہاز اور دوسرے سامان جنگ بنانے میں لگے ہوئے ہیں مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بنانے میں لگ جائیں۔جس طرح وہ لوگ دن رات چھوٹے بھی اور بڑے بھی یہ سامان بنانے میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح ہم بھی سب کے سب رات اور دن خدا تعالیٰ دعائیں مانگنے میں لگ جائیں کیونکہ جب تک مقابلہ کے سامان ویسے ہی زبر دست نہ ہوں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ہر دعا توپ و بندوق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ضروری ہے کہ دعا بھی اتنی ہی شاندار ہو جتنے سامانِ جنگ ہیں۔جس طرح ان سامانوں کے بنانے میں ان لوگوں کا زور لگ رہا ہے اسی طرح دعائیں کرنے میں ہمیں زور لگانا ہئے تا اللہ تعالی اسلام اور احمدیت کی ان چیزوں سے حفاظت کرے۔یا درکھو کہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اللہ تعالیٰ کی مقدس امانت اور اس کے تازہ شعائر ہماری حفاظت میں ہیں ہم کس طرح ان کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ اگر ہمارے مقابر پر ایک بھی بم گرے تو ہم کیا کر سکتے ہیں اور ان کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ہم اسی وقت حفاظت کر سکتے ہیں جب ہم آسمان پر ان سے بہت زیادہ سخت بم بنانے میں لگ ނ