خطبات محمود (جلد 22) — Page 2
$1941 2 خطبات محمود کھانسی کچھ زیادہ تھی مگر کل قریب نہیں اٹھی۔آج کچھ کچھ اٹھ رہی ہے۔مگر اس دفعہ کا حملہ اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں جو پہلے سالوں میں جلسہ کے بعد ہوا کرتا تھا۔پہلے تو جلسہ کے بعد ایسی شدید کھانسی ہو ا کرتی تھی کہ مجھے رات کے ایک ایک دو دو بجے تک بستر میں بیٹھ کر وقت گزارنا پڑتا تھا اور نیند نہیں آتی تھی۔اس سال گو صبح شروع ہوتی ہے مگر دس بجے تک ہٹ جاتی ہے اور پھر شام کو کچھ شروع ہو کر سونے کے وقت تک رک جاتی ہے۔اس کے علاوہ سردی لگنے کی وجہ سے متلی کی بھی کچھ شکایت ہوئی اور جگر کی خرابی کا کچھ دورہ ہوا۔مگر مجموعی لحاظ سے اور توقع کے بالکل خلاف میری طبیعت بہت اچھی رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسی نصرت کی ہے کہ کام بھی ہو گیا اور طبیعت میں بھی کوئی خرابی نہیں ہوئی۔بلکہ طبیعت پہلے کی نسبت اچھی ہے۔اس میں کچھ دخل ایک اور بات کا بھی ہے مگر وہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے اور وہ یہ کہ میں ہمیشہ عام طور پر جلسہ کی تقریروں کے نوٹ دوران جلسہ میں لیا کرتا ہوں۔چونکہ فرصت نہیں ہوتی اس لئے میرا قاعدہ ہے کہ سفید کاغذ تہہ کر کے جیب میں رکھ لیا کرتا ہوں اور دوسرے کاموں کے دوران جو وقت مل جائے اس میں کاغذ نکال کر نوٹ کرتا رہتا ہوں۔مثلاً ڈاک دیکھ رہا ہوں دفتر والے کاغذات پیش کرنے کے لئے لانے گئے اور اس دوران میں نوٹ کرنے لگ گیا یا نماز کے لئے تیاری کی، سنتیں پڑھیں اور جماعت تک جتنا وقت ملا اس میں نوٹ کرتا رہا۔اس طرح میں یہ تیاری پندرہ سولہ دسمبر سے شروع کر دیتا تھا اور قریباً 22، 23 دسمبر تک کرتا رہتا اور اس کے بعد دوسرے کاموں سے فراغت حاصل کر کے نوٹوں کی تیاری میں لگ جاتا۔لیکن ان کو درست کر کے لکھنے کا کام میں بالعموم 27، 28 کو کرتا تھا اور اس کے لئے وقت انہی تاریخوں میں ملتا تھا۔اس وجہ سے طبیعت میں کچھ فکر بھی رہتا تھا کہ صاف کر کے لکھ بھی سکوں گا یا نہیں۔لیکن اس دفعہ قرآن کریم کی تفسیر کا کام رہا اور اس کے لئے وقت نہ تھا۔22 کی شام کو ہم تفسیر کے کام سے فارغ ہوئے۔23 کو بعض اور کام کرنے تھے وہ کئے۔24 کی شام کونوٹوں کا کام شروع کیا اور فکر تھا کہ یہ کس طرح کروں گا مگر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ نوٹوں کی